کشمیر

او آئی سی اقوام متحدہ کیساتھ ملکر نئے بھارتی قانون کو ختم کرائے،صدر مسعود

اسلام آباد : اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کے غیر قانونی ڈومیسائل قوانین کی مذمت کا خیر مقدم کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کے صدرسردارمسعود خان نے بین الاقوامی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیرنے کے بھارتی اقدام کا فوری نوٹس لیتے ہوئے یہ قوانین منسوخ کرنے پر مجبور کریں ۔ صدرسردار مسعود خان نے اسلامی تعاون تنظیم سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے ساتھ ملکر نئے بھارتی قوانیں کو ختم کرانے کی کوشش کرے جن کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ، ان کی زمین پر قبضہ جمانا اور اُن کے مستقل ریاستی باشندہ ہونے ، تعلیم ،ملازمت اور حصول اراضی جیسے تسلیم شدہ حقوق سے محروم کرنا ہے ۔ بھارتی حکومت کے اقدامات پر بین الاقوامی برادری کی بے حسی اور خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ غیرقانونی اور مجرمانہ اقدامات کے ذریعے بھارت اُن ہندو شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کرنا چاہتا ہے جو مقبوضہ کشمیر میں پندرہ سال تک مقیم رہے یا وہ طلبہ جنہوں نے سات سال تک وہاں تعلیم حاصل کی یا جنہوں نے سیکنڈری و ثانوی امتحان مقبوضہ کشمیر میں دیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا تازہ اقدام دراصل وہ شیطانی منصوبہ ہے جس کا مقصد اُن سابق فوجیوں ، سول آفیسرز اور مقبوضہ کشمیر میں مزدوری کے لئے آنے والے بھارتی شہریوں اور مغربی پاکستان کے نام نہاد مہاجرین جنہوں نے قابض اور جارح بھارت کے ایجنٹ کا کردار ادا کیا انہیں مقبوضہ کشمیر کے اصل باشندوں کے برابر حقوق دینا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقبوضہ ریاست کو بھارت کی کالونی بنانے ، کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے اور ان کے حقوق کو روندنے کا منصوبہ ہے ۔ بھارتی حکومت کے اس منصوبہ کو بین الاقوامی قوانین خاص طور پر چوتھے جنیوا کنونشن کی آرٹیکل49 کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کوئی قابض ملک اپنے شہریوں کو مقبوضہ علاقے میں آباد یا منتقل نہیں کر سکتا اور اگر وہ ایسا کرے گا تو اسے جنگی جرم سمجھا جائے گا ۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متعدد مواقع پر قابض ملک کومقبوضہ علاقوں میں نسلی تناسب یا آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے روکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1992میں سلامتی کونسل نے اپنی قراردار 752کیپیرا 6 میں نسلیتناسب میں کسی قسم کے ردوبدل کی دو ٹوک انداز میں مخالفت کی ہے ۔ اس کے علاوہ "آبادی کی منتقلی کی انسانی جہتوںـ”کے بارے میں اقوام متحدہ کے اسپیشل نمائندہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ کسی مقبوضہ علاقے میں باہر سے لا کر شہریوں کو آباد کرنا غیر قانونی ہے ایسا کرنے والی ریاست ایک جرم کا ارتکاب کرتی ہے ۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے رات کی تاریکی میں چوری چھپے ایک ایسے وقت میں یہ قانون کشمیر یوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جب دنیا کرووناوائرس کے خلاف جنگ میں مصروف ہے ۔ بھارت اس قانون کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے غیر قانونی قبضہ کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن مقبوضہ ریاست کے عوام کی طرف سے اس قانون کی بیک زبان مخالفت کے بعد مقبوضہ ریاست کی پولیس کے سربراہ نے اس قانون کی مخالفت کرنے سے سختی سے نمٹنے کی دھمکی دی ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close