انٹر نیشنل

امریکا ، سیاہ فام شخص کی ہلاکت کیخلاف مظاہروں کا سلسلہ پانچویں روز بھی جاری

واشنگٹن: امریکا میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے بعد پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ پانچویں روز میں داخل ہوگیا، لاس اینجلس سمیت 13شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا، جگہ جگہ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، 13شہروں میں نیشنل گارڈز تعینات کردیئے گئے۔ لندن میں بھی امریکی واقعے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ ۔امریکی پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی موت کے خلاف اتوار کو بھی واشنگٹن اور نیو یارک سمیت کئی شہروں میں احتجاج ہوا، مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں پر حملہ کر کے اسے آگ لگا دی۔ شدید ہنگاموں کے باعث منی سوٹا، اوہائیو سمیت 6 ریاستوں میں نیشنل گارڈز تعینات کر دییگئے ہیں جب کہ لاس اینجلس، فلاڈلفیا، کنیکٹی کٹ، لوئی ول اور اٹلانٹا میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جارج فلوئیڈ کی موت کو برا سانحہ قرار دیتے ہوئے مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ اگر انھوں نے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انہیں خونخوار کتوں اور جدید ہتھیاروں سے لیس اہلکاروں کا سامنا کرنا ہو گا۔دوسری جانب واشنگٹن ڈی سی کی میئر پر جمعہ کو وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاج روکنے کے لیے پولیس نہ بھیجنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔میئر کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دے رہی ہیں، مگر ٹرمپ انھیں تقسیم کر رہے ہیں۔ نیویارک کے میئربل ڈی بلیسیو نے کہا کہ سیاہ فام امریکی کے قتل کی آزادانہ تحقیقات اور ملوث افراد سے جوابدہی کی جانی چاہیے۔سیاہ فام امریکی کے سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں قتل کے خلاف احتجاج برطانیہ تک پہنچ گیا ہے جہاں دارالحکومت لندن میں احتجاج کیا گیا، اس موقع پر جارج فلوئیڈ کی یاد میں خاموشی بھی اختیار کی گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close