کشمیر

مقبوضہ کشمیر،بھارت کی بربریت جاری،مزید3نوجوان شہید،فوج کا ورثاء کو لاشیں دینے سے انکار

سری نگر:مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے مزید 3کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے ظلم و بربریت اور ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور وادی میں مودی سرکار کی جانب سے لگائے گئے کرفیو کو ایک برس بھی ہوچکا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے ضلع شوپیاں میں گھر گھر تلاشی کے دوران 2 نوجوانوں کو شہید کیا جب کہ ضلع کپواڑہ میں ایک نوجوان کو شہید کیا۔اس کے علاوہ جموں کے علاقے پونچھ اور رمبان میں گھر گھر تلاشی کے دوران دو نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا۔ بھارتی فوج نے حریت پسند کمانڈرنصیر الدین لون، طالب حسین اور محمد عاقب نامی کشمیری نوجوانوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ بھارتی فوج نے کپواڑہ اور شوپیاں اضلاع میں ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں بدھ کے روز ان3 نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا ۔دریں اثنا ء حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی پر مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے سرینگر میں شہریوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین نے پرامن احتجاجی ریلی نکالی اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے میں ملوث مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کے پی آئی کے مطابق مظاہرین نے اسلام کے حق میں نعرے بھی لگائے۔دریں اثنا ، شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے قصبہ کرناہ میں بھی پرامن احتجاجی مارچ کیا گیا۔ضلع کپواڑہ کے سینکڑوں مقامی افراد،سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ٹریڈ یونینز نے ایس ڈی ایم آفس کی طرف مارچ کیا ۔ اس موقع پر مظاہرین نے گستا خی کرنے والے مجرموں کے خلاف نعرے بازی کی۔گستاخانہ ریمارکس کو مقبوضہ کشمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیتے ہوئے مظاہرین نے ملزمان کو مثالی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔قبل ازیں سری نگر میں تاریخی جامع مسجد کی انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر نظربند حریت کانفرنس ( میرواعظ)کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔یہ مطالبہ اس وقت کیا گیا ہے جب 150 دن کے بعد جامع مسجد سری نگر کو کھول دیا گیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاون میں مساجد بھی بند کر دی گئی تھیں۔ گزشتہ روزجامع مسجد میں نماز با جماعت کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ اس موقع پر میر واعظ عمر فاروق کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا تاکہ وہ جامع مسجد میں خطاب کا سلسلہ دوبارہ شروع کر سکیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close