کشمیر

زندگی میں کبھی ایک پیسے کی بھی کرپشن نہیں کی،فاروق حیدر

میرپور:وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی شمولیت کے بغیر بامقصد مذاکرات نہیں ہو سکتے اور نہ ہی کشمیری کسی ایسے حل کو تسلیم کرتے ہیں جس میں ان کی رائے اور مرضی شامل نہ ہو۔واحد وزیر اعظم ہوں جس نے میرپور سے کچھ نہیں لیا بلکہ اپنی صوابدید بھی ختم کردی۔ مظفرآباداور میرپور میں فرق نہیں سمجھتا ۔کمیونٹی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پروگرام سے اپوزیشن کو بھی حصہ ملتا ہے ۔ سیاستدان کو بدنام کرینگے تو اوپر سے فرشتے آکر نظا م درست نہیں کرسکتے ۔ صاف وشفاف انتخابات کیلئے ووٹر لسٹوں کی تیاری کیلئے نادرا سے معاہدہ کر لیا ہے ۔ کسی سے تلخی نہیں چاہتے اور نہ کسی کی تذلیل مقصد ہے ۔ کوئی چور بولے گا تو میں اس کے گھر تک جائوں گا۔ میں بھی اپنے اثاثے سب کے سامنے رکھتا ہوں باقی سب بھی لے آئیں ۔ اپنی عزت سے زیادہ کسی کی عزت عزیز نہیں ہوتی۔ راستہ بند کرنے والوں اور سڑک بند کر کے احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کروں گا چاہے اقتدار چلا جائے۔ اقوام متحدہ کی قراردادووں کے تحت ہمارا مطالبہ رائے شماری ہے ۔ میڈیا حکومت کی خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرے ہم کھلے دل سے خوش آمدید کہیں گے ۔ صحت مند صحافت اور صحت مند سیاست ملک کو آگے لیکر جائیں گے۔سیاستدان کا احتساب ہر پانچ سال بعد عوام کرتے ہیں ۔ رٹھوعہ ہریام برج کیلئے تین ارب روپے مزید چاہیں ، ہر پندرہ دن بعد اس کی رپورٹ لے رہا ہے ۔ میرپور میں گیس کی فراہمی کیلئے اپنے بجٹ سے 44کروڑ روپے دیے ۔ حکومت پاکستان کو لکھا ہے کہ متاثرین زلزلہ میرپور کو معاوضہ جات کی ادائیگی کیلئے رقم فراہم کریں۔ میرپورکے لوگوں نے قربانی دی، ریونیو اکیڈمی مظفرآباد سے میرپور شفٹ کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز کشمیر پریس کلب میرپور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزراحکومت چوہدری محمد عزیز ، کرنل ریٹائرڈ وقار احمد نور، چوہدری مسعود خان ، سابق وزیر حکومت چوہدری محمد سعید، چوہدری صہیب سعید، اعجاز رضا اور انتظامیہ کے آفیسران سمیت لیگی رہنماں و کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ وزیرا عظم کافی دیر تک پریس کلب میں رہے اور صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے رہے اور غیر رستمی گفتگو بھی ہوئی۔پریس کلب پہنچنے پرصدرپریس کلب سجاد جرال،جنرل سیکرٹری چوہدری پرویزشہزاداور دیگرعہدیداران نے وزیراعظم راجہ محمدفاروق حیدرخان کااستقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات 2021 اپنے مقررہ وقت پراور مکمل طورپرشفاف اور غیرجانبدار ہوں گے۔ آزادجموں وکشمیر حکومت نے غیرجانبدار اور فعال الیکشن کمیشن قائم کردیاہے۔ زندگی میں کبھی ایک پیسے کی بھی کرپشن نہیں کی۔ بدعنوان عناصرکاان کے گھرتک پیچھاکروں گا۔ کشمیری مسئلہ جموں وکشمیر کے اصل فریق ہیں۔ آزادجموں وکشمیر حکومت کوکشمیریوں کی نمائندہ حکومت تسلیم کیاجائے۔ 72 سال کے مسائل کوحل کرنے کے لیے ساری توانائیاں صرف کیں۔ آزادجموں وکشمیرکو مالیاتی خودمختاری دلائی،بلاتخصیص سارے علاقوں میں ریکارڈ ترقیاتی کام کیے۔ قبل ازیں وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر راجہ محمدفاروق حیدرخان نے 77 کروڑ سے زائدروپے کے چارمنصوبوں کاسنگ بنیاد رکھااور افتتاح کیا۔ وزیراعظم نے 44 کروڑ 80 لاکھ روپے مالیت کے 500 بیڈفیز I کے ڈویڑنل ہیڈکوارٹرٹیچنگ ہسپتال اور پی سی آر لیبارٹری کا افتتاح کیا۔ انھوں نے ہسپتال کادورہ بھی کیا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹرفاروق احمدنور نے انھیں پراجیکٹ کی تفصیلات کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیراعظم آزادکشمیرنے 23 کروڑ80 لاکھ روپے کی زیرتعمیرہال روڈ اور 8 کروڑروپے کی جاتلاں روڈ کاسنگ بنیاد بھی رکھا۔ وزیراعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمدفاروق حیدرخان نے کہاکہ الحمداللہ ہم نے اقتدارکوامانت اور آزمائش سمجھا۔ہمارے نزدیک عوام کی ترقی اور بہبود ترجیح رہی۔ آئندہ عام انتخابات ہرصورت میں اپنے مقررہ وقت پرہوں گے۔ انھیں صاف شفاف،آزادانہ اور غیرجانبدارانہ بنانے کے لیے تمام اقدامات کررہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی میرٹ پرآئین کے مطابق تشکیل کردی گئی ہے۔ ووٹرلسٹوں کی تیاری کے لیے نادرہ سے معاہدہ کرلیاہے۔ میری بھرپورکوشش ہے کہ الیکشن پرامن اور صاف ستھرے ماحول میں ہوں۔ الیکشن میں کسی بھی قسم کی اور کسی بھی طرف سے مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ میں اپنے اثاثے عام کرتاہوں دیگرتمام سیاستدانوں سے بھی کہتاہوں کہ وہ بھی اپنے اثاثے عام کریں۔ انھوں نے کہاکہ میں نے صاف ستھری زندگی بسرکی۔ عام آدمی کی طرح ہوں،کبھی کوئی جانبدار یاناجائزمفاد حاصل نہیں کیا۔ والدہ کومہاجرہونے پرجوجائیدادملی اس کاقبضہ بھی آج تک نہیں لے سکا۔ انھوں نے کہاکہ کرپٹ عناصر کوکبھی اور کسی صورت برداشت نہیں کروں گا۔ یہ اپنی کرپشن چھپانے کے لیے شوروغوغاکررہے ہیں۔ میں ان کاآخری حد تک پیچھاکروں گااور کیفرکردارتک پہنچاوں گا۔ انھوں نے کہاکہ کشمیرکامسئلہ اس وقت عروج پرہے۔ یہ ہمارے لیے زندگی اور موت کامسئلہ ہے۔ ہمارا یہ اصولی موقف ہے کہ آزادجموں وکشمیرحکومت کوریاست جموں وکشمیرکی نمائندہ حکومت تسلیم کیاجائے۔ مسئلہ کشمیرآزادانہ رائے شماری کے ذریعے حل ہوگا۔ مزاکرات اسی وقت نتیجہ خیز اور کامیاب ہونگے جب اس میں کشمیری نمائندے کے طورپرمزاکرات کی میزپربیٹھیں گے۔ کشمیری اس مسئلہ کے اصل فریق ہیں۔ اگراسے زمینی تنازعہ کی صورت میں لیاگیا توعالمی برادری اپنے تجارتی مفاد کے پیش نظربھارت کوسپورٹ کرے گی۔ وزیراعظم نے کہاکہ یہ ہمارامطالبہ ہے کہ آزادجموں وکشمیر کی مددکی جائے۔ بھارت کے جارحانہ اور یکطرفہ اقدامات کی بدولت وقت کم ہورہاہے۔ بھارت اپنے شہریوں کومقبوضہ ریاست میں مسلسل شہریت دے رہاہے جس سے وہاں کے مستقل باشندے اقلیت میں بدل رہے ہیں۔ جموں کے ہندو جوآج صورتحال پرخاموش ہیں وہ بہت جلد اپنے ہی گھراورریاست میں دوسرے درجے کے شہری بن جائیں گے۔ انھوں نے کہاکہ ریاستی ادارے وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتے ہیں۔ میرپوربورڈ نہ کہیں منتقل ہورہاہے اور نہ ہی تقسیم ہورہاہے۔ ایساعلاقائیت پرمبنی سیاست کرنے والے گمراہی پھیلارہے ہیں۔ ریاست کی ضرورت کے پیش نظر ڈویڑن ہا میں مفاد عامہ اور طلبائ کی سہولت کے پیش نظر نئے تعلیمی بورڈ قائم کرنے کی تجویز زیرغورہے۔ انھوں نے کہاکہ ایسا انتظامی اور ریاست کے وسیع ترمفاد میں کیاجارہاہے۔ ہمیں نئے ڈویڑن اور اضلاع کی ضرورت تھی ہم نے قائم کیے جس سے نظام میں بہتری آئی۔ نئے بورڈ کے قیام کی مخالفت کرنے والے صرف علاقائیت اور نفرت کی سیاست کرنے والے ہیں۔ ہم نے حال ہی میں احتساب ایکٹ میں ترامیم کیں۔ دس نئی فیملی کورٹس قائم کیں۔ جنسی زیادتی کرنے والوں کے لیے خصوصی قانون منظورکیا۔ ان تمام اقدامات سے ریاست کے عوام کوانصاف اور سہولت ملی۔ انھوں نے کہاکہ زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے پیکج تیارہے،وفاق سے فنڈز کے حصول کے لیے بات چیت ہورہی ہے۔ جونہی فنڈز آئے ہرمتاثرہ کونقصانات کامعاوضہ ملے گا۔ انھوں نے کہاکہ ہم نے بہت محنت سے 13 ویں آئینی ترامیم منظور کروائی اس ترامیم سے ہمیں مالیاتی خودمختاری ملی۔ جب اقتدارسنبھالاتو 22 ارب روپے کاخسارہ ملاتھاجوہم نے اداکیا۔الحمداللہ گذشتہ چارسالوں میں ایک روپیہ بھی سٹیٹ بنک سے ادھارنہیں لیا۔ راجہ محمدفاروق حیدرخان نے کہاکہ میرپورکے تمام درینہ مسائل حل کریں گے۔ واٹرسپلائی کے لیے 50 کروڑ دے چکے ہیں جس سے پانی کی فراہمی میں بہتری آئی ہے تاہم مکمل منصوبے کوبھی پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ شہرکے باقی مانندہ علاقوں میں سوئی گیس کی فراہمی کے لیے عوام سے بات چیت ہورہی ہے جلد ان علاقوں میں بھی کام شروع ہوجائے گا۔ رٹھوعہ ہریام پل پراس وقت دلدلی زمین کی وجہ سے کام رکاہے اس جگہ 160 فٹ سپین کاسٹیل پل نصب کرناہے جوکہ ایک منفرد منصوبہ ہے اس کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے اس منصوبے کے لیے ریلوے، ایچ ایم سی سمیت چینی حکام سے بھی بات چیت جاری ہے اور اسے آنے والے دنوں میں مکمل کرلیں گے۔ انھوں نے کہاکہ میرپور قربانیاں دینے والاشہرہے۔ اس کی ترقی کے لیے ہرممکن اقدامات کریں گے۔ آج یہاں 44 کروڑ سے زائد مالیت کے پانچ سوبستروں کے ٹیچنگ ہسپتال کاافتتاح کردیاہے اور پی سی آر لیب کوفعال کردیاہے۔ ساڑھے 23 کروڑ روپے کی مالیت سے ڈیول کیرج ہال روڈ اور 8 کروڑ سے زائد مالیت کی بن خرماں روڈ کاسنگ بنیاد رکھ دیاہے۔ یہ شاہرات اور ہسپتال عوامی حکومت کی طرف سے میرپورکے عوام کی فلاح وبہبود کے لیے تحفہ ہیں۔ آنے والے دنوں میں مزیدترقیاتی منصوبے میرپورکودیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close