پاکستان

ذخیرہ اندوزوں کوپیغام دیتاہوں،ناجائزمنافع خوری کی اجازت نہیں دیں گے،شاہ محمود

اسلام آباد:وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کوپیغام دیتاہوں،ناجائزمنافع خوری کی اجازت نہیں دیں گے،قیمتوں کو مستحکم کرنے کیلئے امپورٹ کا فیصلہ کیا ہے، مختلف مارکیٹوں میں قیمتوں سے متعلق آگاہی کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیںہیں جب تک آپ حقائق تسلیم نہیں کر سکتے تب تک درست منصوبہ بندی نہیں کر سکتے جبکہ افسران صرف سب اچھاہے کی رپورٹ دیتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی تحفظ خوراک کے وزیرسید فخر امام اور وزیرِ صنعت و پیدار حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر انہوںنے کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ زمینی حقائق سرکاری رپورٹ سے مطابقت رکھتے ہوںافسران صرف سب اچھاہے کی رپورٹ دیتے ہیں جب تک آپ حقائق تسلیم نہیں کر سکتے تب تک درست منصوبہ بندی نہیں کر سکتے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے آخرکارگندم ریلیزکرنیکافیصلہ کرلیاہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اسٹاک کاکوئی مسئلہ نہیں،گندم ریلیزکوبڑھائیں، قیمتوں میں استحکام لانے سے متعلق وزیراعظم نے کل ایک اجلاس کی صدارت بھی کی جبکہ ہم نے قیمتوں کو مستحکم کرنے کیلئے امپورٹ کا فیصلہ کیا ہے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوزوں کوپیغام دیتاہوں،ناجائزمنافع خوری کی اجازت نہیں دیں گے،انہوں نے کہا کہ کارکنوں کوکہہ دیا ہے کہ مختلف مارکیٹوں میں قیمتوں سے متعلق آگاہ کیاجائے اس پریس کلانفرنس میں قومی تحفظ خوراک کے وزیرسید فخر امام نے کہا کہ3مرتبہ چیف سیکرٹری سندھ کوگندم کی فراہمی کیلیے خطوط لکھے سندھ حکومت نے2دن پہلے گندم ریلیزکرنیکافیصلہ کیا، ملک میں گندم کا مصنوعی بحران پیدا کیاجارہا ہے، سید فخر امام کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت جولائی سے اَب تک14لاکھ ٹن گندم ملوں کوجاری کرچکی ہے جبکہ بلوچستان میں گندم کی پیداوار90ہزارٹن رہی،ملک میں گندم کی پیداوارتخمینے کے مطابق نہیں ہوسکی،رواں سال ملک بھرمیں68لاکھ ٹن گندم سرکاری طورپرخریدی گئی،وزیرِ برائے قومی تحفظ خوراک نے گندم کی پیداوار کے حوالے سے مزید اعدادوشمار بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب19لاکھ ٹن،سندھ3.85لاکھ ٹن اورکیپی میں 1.25لاکھ ٹن گندم پیداہوئی گندم کی خریداری کاہدف82لاکھ ٹن مقررکیاگیاتھا،سندھ حکومت نے2دن پہلیگندم ریلیزکرنیکافیصلہ کیااس موقع پر وزیرِ صنعت و پیدار حماد اظہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چینی مارکیٹ میں آنے کے بعد 15روپے فی کلو تک کمی ہوگی،وزیراعظم ہرہفتے آٹا،چینی پربریفنگ لیتے ہیںچینی کی قیمتوں میں اضافے پرقابوپالیں گے، درآمد چینی کنٹرول ریٹ پر مارکیٹ میں بیچی جائے گی، جولائی میں اچانک بتایاگیاکہ ڈھائی سے3لاکھ ٹن چینی کی کمی ہے،10نومبر کو شوگر ملوں میں کرشنگ کا عمل شروع ہوگا،مناسب داموں پر ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی درآمد کرلی گئی ہے،حکومت نے چینی کے مصنوعی بحران کوموثراندازمیں حل کیاہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close