پاکستان

شپنگ کمپنیوں کے آنے سے فریٹ کی مد میں قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی، علی زیدی

اسلام آباد:وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا ہے کہ شپنگ کمپنیوں کے آنے سے فریٹ کی مد میں جانے والا قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی،وزارتِ سمندری امور کی ٹیم عمران خان کے ویژن کے مطابق محنت اور لگن سے کام کر رہی ہے،ہمارے سی فیئررز کسی صورت صلاحیتوں میں کسی سے پیچھے نہیں۔ جمعہ کو جار ی اعلامیہ کے مطابق وزارتِ سمندری امور میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائیزیشن کے الیکشن کیلئے سفارتی سطح پر ملاقاتیں ہوئیں ،1991 کے بعد موجودہ حکومت آئی ایم او الیکشن میں حصہ لینے کیلئے سنجیدہ ہے،ملاقات میں مختلف ممالک کے سفیروں کو وزیرِ اعظم عمران خان اور علی زیدی کے بلیو اکانومی ویڑن کے بارے آگاہ کیا گیا،بحرین، بنگلہ دیش، چین، انڈونیشیا، ایران، ایراق، اردن، کازکستان، کویت اور مالدیپ کے سفیروں نے شرکت کی،ملاقات میں میانمار، سری لنکا، شام، ترکمانستان، یمن، تاجکستان اور ازبکستان کے سفیر بھی شامل ہیں ، علی زیدی نے کہاکہ پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں،صحیح گورننس سے اسے ترقی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔بلیو اکانومی کنسپٹ کو پاکستان میں پہلی بار عمران خان کی حکومت نے متعارف کرایا ہے،دنیا میں پورٹ اتھارٹیاں شہر چلاتی ہیں۔ علی زیدی نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ بندرگاہوں اور سمندری تجارت کو بھرپور توجہ دی جا رہی ہے،نیویارک پورٹ اتھارٹی پورا شہر چلاتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ نیویارک کے ایئرپورٹ، ٹرین، بس سروس، لنکن ٹنل، سب پورٹ اتھارٹی کی ملکیت ہیں،جب پورٹ بنتا ہے، اس کی حدود میں تمام ترقیاتی کام پورٹ اتھارٹی کرتی ہے،میں نے وزارت سنبھالتے ہی کراچی کو اسکی بندرگاہوں کے ذریعے ترقی دینے کا ارادہ کیا۔ انہوںنے کہاکہ وزارتِ سمندری امور کی ٹیم عمران خان کے ویژن کے مطابق محنت اور لگن سے کام کر رہی ہے،نئی شپنگ پالیسی پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹر شپنگ کو ترقی دیگی ۔ انہوںنے کہاکہ شپنگ کمپنیوں کے آنے سے فریٹ کی مد میں جانے والا قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی۔ علی زیدی نے کہاکہ سی فیئررز کا تمام ڈیٹا ڈیجیٹائز کرکے ویب سائٹ پر ڈال دیا گیا ہے،ہمارے سی فیئررز کسی صورت صلاحیتوں میں کسی سے پیچھے نہیں۔ وفاقی وزیر علی زیدی نے کہاکہ سی فیئررز کے ویزا کے مسائل حل کرنے کیلئے تمام ممالک کی معاونت درکار ہے،ہم وزارتِ سمندری امور میں جدت لے کر آ رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کو ایک جدید بس سروس سے جوڑا جائے گا،بلوچستان حکومت سے تعاون کرکے کوسٹل ٹورزم کے پراجیکٹس پر کام ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پچھلے سال ہم آئی ایم او گئے اور پہلی دفعہ کسی پاکستانی وزیر نے اس میں تقریر کی،اگلے سال ہم آئی ایم او کا کیٹیگری سی کا الیکشن لڑنے جا رہے ہیں،ہمارے پاس گیارہ سو کلو میٹر لمبی کوسٹل لائن ہے،پاکستان سمندری وسائل سے مالامال ہے۔ انہوںنے کہاکہ بلیو اکانومی کنسپٹ پاکستان کی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے جا رہا ہے،پچھلے سال ہم نے نوے میلن ٹن کارگو ہینڈل کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close