کشمیر

کشمیرکے ٹکڑے کرنے کا کسی کوحق نہیں،صدر،وزیراعظم آزادکشمیر

مظفرآباد:آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات اپنے بچوں کے گلے کاٹنے والے ظالم کے ساتھ میز پر بیٹھنا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے جو کچھ کیا ہے اس پر مہر تصدیق ثبت کرنے کے مترادف ہو گا۔ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرار دادیں ہماری جدوجہد کی بنیاد ہیں ان قرار دادوں سے دستبردار ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بھارت کے ساتھ ڈائیلاگ کے خلاف نہیں لیکن ڈائیلاگ اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیریوں کو شامل کر کے صرف اس وقت ہو سکتے ہیں جب بھارت جنگی جنون کو خیر باد کہہ کر کشمیریوں کا قتل عام بند کرے، گذشتہ سال پانچ اگست کے بعد کے تمام اقدامات واپس لے، اپنا فوجی آپریشن فی الفور روکے اور مذاکرات کے لیے جو فضا ضروری ہے وہ پیدا کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے زیر اہتمام یوم تاسیس آزاد کشمیر کے حوالے سے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ ہم سب کو اپنا گریبان میں جھانکناچاہیے کہ تحریک آزادی کشمیر کے حوالہ سے ہم نے اپنا فرض پورا کیا ہے یا نہیں؟،جب تک کشمیری اپنا مقدمہ خود نہیں لڑیں گے اس وقت تک دنیا میں پذیرائی نہیں ملے گی، ہندوستان کشمیریوں کو منتشر کرنا چاہتا ہے ،کشمیرہماری عزت اور غیرت ہے ، کشمیر کا فیصلہ کرنے کا حق صرف کشمیریوں کو ہے، گلگت بلتستان کے لوگوں کو ان کے حقوق ملنے چاہیں۔کشمیرکوئی زمینی تنازعہ نہیں ،بھارت اسے زمینی تنازعہ بنانا چاہتا ہے ۔ کشمیری جو فیصلہ کریں سب کو منظور ہونا چاہیے ، کشمیر کے مسئلہ کا حل صرف رائے شماری ہے ۔ پاکستان بہت بڑی قربانیوں کے بعد وجود میں آیا ،آزادی پاکستان کے وقت صرف پنجاب سے 55ہزار مسلمان عورتیں اغوا ہوئیں اور جموں میں ڈھائی مسلمانوں کو شہید کیا گیا،کسی کو کوئی حق نہیں کہ کشمیر کے ٹکڑے کرے۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نیجموں وکشمیر لبریشن سیل و آزادجموں وکشمیر یونیورسٹی کے زیر اہتمام 73یوم تاسیس کے موقع پر ’’ہماری جدوجہد استصواب رائے ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close