کشمیر

بھارت کو مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی خواہشات اور بین الاقوامی اُصولوں کے مطابق حل کرنا ہو گا، صدر آزاد کشمیر

اسلام آباد:صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ہم خطہ میں امن چاہتے ہیں لیکن امن کشمیریوں کی لاشوں پر قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ بھارت بھی اگر امن چاہتا ہے تو اُسے مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی خواہشات اور بین الاقوامی اُصولوں کے مطابق حل کرنا ہو گا۔ کشمیر ہائوس اسلام آباد میں ایک نجی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو انٹرویودیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ مذاکرات ماضی میں کئی بار ہوئے لیکن وہ اس لئے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے کیونکہ دونوں ملکوں کے مقاصد مختلف ہیں۔ پاکستان ان مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے جبکہ بھارت مذاکرات میں مسئلہ کشمیر سے پہلو تہی اختیار کر کے غیر متعلقہ اور فروعی مسائل پر بات چیت کر کے وقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ ایک طرف دنیا کو دھوکہ دے سکے کہ وہ مسائل کے حل کے لئے پاکستان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور دوسری طرف وہ ان مذاکرات کی آڑ میں وقت حاصل کر کے کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضہ کو دوام بخش سکے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام پاکستان کے لئے خون دے رہے ہیں اور پاکستان کی حکومت اور ریاست کبھی بھی انہیں اُن کی جدوجہد میں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی تحریک آزادی کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ برطانیہ، یورپ، آسیان ممالک، خلیجی ریاستوں حتیٰ کے امریکی کانگریس میں کشمیریوں کے حقوق کے حوالے سے آواز یں بلند ہو رہی ہیں لیکن یہ حمایت ارکان پارلیمان، سول سوسائٹی اور میڈیا کی حد تک ہے۔ چند ملکوں کے علاوہ دوسرے تمام بااثر ممالک کی حکومتیں اپنے مخصوص مفادات کی وجہ سے بھارت کے خلاف زیادہ نہیں بولتی جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ ارکان میں سے چین کو چھوڑ کر چار ممالک بھارت کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں اور اُن کا ورلڈ ویو یہ ہے کہ بھارت چین کے مقابلہ میں کھڑا ہو گا یا اُس کی معاشی ترقی کی رفتار سست کرنے میں مغرب کا مددگار بنے گا اس لئے وہ بھارت کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ بھارت کو کس چیز نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادہ کیا تو صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کی بی جے پی حکومت شدیداندرونی دبائو کا شکار ہے کیونکہ مودی حکومت نے کشمیر کی پالیسی کو جب پورے ہندوستان میں نافذ کرنے کی کوشش کی تو اُسے بھارتی عوام کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close