کشمیر

آزادکشمیرعدلیہ کو یرغمال بنانے کی ہرکوشش کیخلاف مزاحمت کرینگے:چودھری یاسین

مظفرآباد:آزادجموں کشمیر قانون سازاسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن چودھری محمد یاسین نے کہاہے کہ عدالتی بحران حل کرنے کیلئے ترامیم لانی ضروری ہیں تو تمام پارلیمانی جماعتوں و سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے کسی ایک جماعت یا قبیلے کی عدلیہ نہیں بننے دیں گے عدلیہ عام آدمی کی آخری امید ہوتی ہے اور عدلیہ کو یرغمال بنانے کی ہر کوشش کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کے روز اسمبلی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ترامیم لانی ہیں تو سرکاری ملازمین کی طرح جج بھرتی کرنے کے بجائے پاکستان کی طرز پر ججز تقرری کے لیے اصلاحات لائی جائیں اور پارلیمنٹری کمیٹی فار سپیرئیر ججز بنائی جائے جہاں ٹو تھرڈ مجارٹی سے فیصلے ہوتے ہیں اور تمام پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی ہوتی ہے اور دو خفیہ اداروں کی رپورٹ بھی شامل ہوتی ہے لیکن مسلم لیگ ن کی حکومت اپنی مرضی کی عدلیہ چاہتی ہے اور موجودہ طریقہ کار ماضی کے سول سرونٹس ایکٹ کی یاد دلاتا ہے اگر اعلی عدلیہ میں اس طرح بھرتیاں شروع کر دی گئیں تو پھر انصاف کے تقاضے کون پورے کرے گا ۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے کہا کہ دو ماہ کے لیے قانون سازی کیا مذاق ہے انہوں نے کہا کہ قوم کے ساتھ مذاق نہ کیا جائے پہلے ہی عدلیہ کے حوالے سے حکومت نے دو سال سے غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیے رکھا اور آج سرکاری ملازمین کی طرح ججز بھرتی کرنا چاہتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close