21

آزادکابینہ،5سال سے زائد سروس کے حامل ملازمین مستقل

مظفرآباد:وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموںو کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی زیر صدارت آزادکشمیر کابینہ کا اجلاس ،اجلاس میں سکیل 7سے لے کر سکیل 16تک کے تمام ملازمین کی تقرری بذریعہ این ٹی ایس یا تھرڈ پارٹی کرنے کے مسودے، مسودہ قانون ،یتیموں اور بیوائوں کے لیے خصوصی فنڈ اور ان کی ماہانہ بنیادوں پر معاونت کے لیے خصوصی فنڈ قائم کرنے کے ایکٹ ،آزاد کشمیر سول سرونٹس ایکٹ، سروس ٹربیونل ایکٹ کا دائرہ کار آزاد جموں وکشمیر کونسل تک بڑھانے کی بھی منظوری دی ۔آزادکشمیر کابینہ نے چھوٹا گلہ ہاوسنگ سکیم میں 65 غیر ریاستی افراد کو پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹ منٹ پر قائم کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ریاست بھر میں غیر ریاستی باشندوں کے پلاٹس کی الاٹمنٹس کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے منسوخ کر نے کی منظوری دی۔آزادکشمیر کابینہ نے جنگلات کے مینجمنٹ پلان ،ویسٹ پاکستان ایبیڈیمک ڈیسیز ایکٹ کے نفاد کی منظوری دی جس کے تحت وبا کی صورت میں حکومت کو ایمرجنسی صورتحال کے حوالے سے خصوصی اختیارات حاصل ہوں گے ۔کابینہ نے الیکشن کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں آزاد جموں وکشمیر الیکشنز 2021کے ترمیمی مسودہ کی بھی منظوری دی جس کے تحت انتخابی ضابطہ کار اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تجاویز پر مبنی مسودہ کی بھی منظوری دی گئی جو قانون ساز اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا ۔آزادجموں وکشمیر کابینہ نے نوتوڑ خالصہ سر کار ایکٹ میں ترمیم ،ایڈھاک ملازمین کی ریگولیرائزیشن کے حوالے سے مسودہ قانون کی بھی منظوری دی جس کے تحت 5سال سے زائد سروس کے حامل ملازمین جریدہ و غیر جریدہ کو پنجاب ،خیبر پختون خواہ اور سندھ کی طرز پر مستقل کیے جانے کے منظوری دی ۔علاوہ ازیں آزادجموں وکشمیرتعلیمی پالیسی کی بھی منظوری دے دی ۔کابینہ کا اجلاس وزرا ء بلاک کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس میں سینئر وزیر ،وزرا کرام ،و دیگر اعلی سرکاری حکام نے شرکت کی اجلاس میں منظور کیے جانے والے مسودہ قانون جس کے تحت آزادکشمیر کے تمام محکمہ جات میں سکیل سات سے لیکر سکیل سولہ تک کی تمام غیر جریدہ آسامیوں پر این ٹی ایس یا کسی تھرڈ پارٹی کے تحت میرٹ پر تقرریوں کے قانون کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت کوئی بھی سرکاری محکمہ ان آسامیوں پر اہڈہاک تقرریاں بھی نہیں کر سکے گا اور تمام تر تقرریاں بعد از مشتہرگی عمل میں لائی جائیں گی ۔الیکشن کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں آزادجموں کشمیر الیکشنزترمیمی ایکٹ 2021 کی منظوری دی گئی جس کے تحت پاکستان میں 2017 میں الیکشن ایکٹ میں کی جانے والی ترامیم کو معمولی رد وبدل کے ساتھ آزادکشمیر میں بھی نافذ العمل کیا گیا ہے جس کے تحت ووٹر فہرستیں نادرا اپڈیٹ کریگا ،انتخابی اخراجات کی زیادہ سے زیادہ حد کو 50 لاکھ تک مقرر کیا گیا ہے انتخابی اخراجات کے گوشوارہ جات جمع کرانے ہونگے الیکشن کمیشن ملازمین جو کہ اپنے فرائض میں غفلت کے مرتکب ہوں کے خلاف تادیبی کاروائی کرنے کا مجاز ہوگا اور اس حوالے سے انکوائری کمیٹی قائم کی جاے گی۔ انتخابات کی مانیٹرنگ کے لیے مختلف محکمہ جات پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دے سکے گا انتخابات میں حکومت پاکستان اور حکومت آزادکشمیر کے سرکاری وسائل کے استعمال پر مکمل پابندی ہو گی ۔آزادکشمیر حکومت اور پاکستان کا کوئی حکومتی عہدیدار کسی منصوبے یا پیکج کا اعلان نہیں کر سکے گی ۔سرکاری عمارات پر جماعتی جھنڈے اور اس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال پر مکمل پانبدی ہو گی۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے اکاونٹس کی سالانہ بنیادوں پر تفصیلات جمع کروانے کی پابند ہونگی اور اپنے ڈونرز کی جن کی رقم ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہو کی بھی تفصیلات دیں گی۔ آزادکشمیر حکومت اور پاکستان کا کوئی حکومتی عہدیدار کسی منصوبے یا پیکج کا اعلان نہیں کر سکے گا انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ ،دوسال قید اور انتخابات میں نااہلی ہو گی یہ ضابطہ اخلاق آزادکشمیر بھر اور مہاجرین مقیم پاکستان کے تمام انتخابی حلقہ جات پر نافذ العمل ہو گا ۔مسودہ قانون میں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کے حوالے سے بھی طریقہ کار طے کیا گیا ہے اجلاس میں آزادکشمیر فاریسٹ مینجمنٹ پلان کی بھی منظوری دیدی گئی۔ سیکرٹری جنگلات نے کابینہ کو بتایا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں محکمہ نے ایک لاکھ اسی ہزار ایکٹر رقبے پر شجر کاری کی اور مجموعی طورپر 45 فیصد نئے رقبے پر جنگلات لگائے گئے۔ اجلاس میں کشمیر کونسل کے ملازمین جو کہ تیرویں ترمیم کے بعدا ٓزادکشمیر حکومت کے ملازمین ہیں اور جن کی تنخواہیں آزادکشمیر کے خزانے سے ادا کی جارہی ہیں پر آزادکشمیر سول سرونٹس ایکٹ ،آزادکشمیر سروس ٹربیونل ایکٹ کے نفاذ کی بھی منظوری دی گئی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں