21

جماعت اسلا می پاکستان کا 81واں یوم تاسیس اور درپیش چیلنجز

26اگست 1941ء کو جماعت اسلامی کا قیام عمل میں آیا،75افراد نے رکنیت کا حلف اٹھایا اور 38سالہ سید مودودی علیہ رحمت کو اس قافلہ سخت جا ں کا امیر منتخب کیاگیا،81برسوںمیں جماعت اسلامی نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے شاہد ہی کسی اور جماعت کے دامن میں اتناشاندار ریکارڈ موجود ہو،سید مودودی علیہ رحمت دنیا کے ان چند مفکرین میں سے ہیںجنھوںنے یہ محسوس کیاکہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو کارانبیاکو آگے بڑھانے کی ذمہ داری پر فائز کیاہے سید مودودی کی فکر کا اگر آپ بغور مطالعہ کریں تویہ راز عیاں ہوجائے گا کہ سید مودودی علیہ رحمت اس امت کو اسی فرض کی یاد ھانی کروا ہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے ذمہ لگائی ہے،سیدمودودی کی فکراور دعوت کوئی نئی فکراور دعوت ان معنوں میں نہیں ہے بلکہ یہ وہی دعوت اور فکر ہے جو نبی ۖ نے دی تھی۔خلافت راشدہ کاد ور پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے۔جماعت اسلامی اللہ کے دین کے قیام اور غلبے کی جدوجہد کررہی ہے جس کو امت مسلمہ بھول بیٹھی ہے۔اسی بھول کا نتیجہ ہے کہ امت مسائل کا شکار ہے۔جماعت اسلامی کے پاس امت کو اس پستی کی پاتال سے نکالنے کا ایجنڈا ہے جو عالمی اسٹبلشمنٹ کو قبول نہیں ہے۔
14اگست 1947سے لے کر آج تک سات دھائیوں کے سفرمیںجماعت اسلامی مسلسل پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ بن کر کھڑی ہے،اسلامی جمہوریہ پاکستان کو جب بھی جغرافیائی محاذ پر خطرہ لاحق ہوا جماعت اسلامی سینہ تال کرکھڑی ہوئی اور اس خطرے سے ملک کوبچانے کی کوشش کی،65کی جنگ ہویا 71کا سانحہ جماعت اسلامی کی قیادت سے کارکن تک قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کی،پاکستان کو دولخت کرنے کی سازش کے خلاف جماعت اسلامی کھڑی رہی اور آج بھی بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے قائدین کو پھانسیاں دی جار ہیں،افغانستان کے راستے پاکستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو پوری دنیا اور افغانستان کے پہاڑ گواہی دیں گے جماعت اسلامی کی قیادت اور اس کے کارکنوں کا خو ن گرا اور پاکستان کو محفوظ بنایا۔
پاکستان کی رشہ رگ کشمیر پر ہندوستانی قابضے کے خلاف جماعت اسلامی نے گرم گرم لہو پیش کیا ا ور کررہی ہے،پاکستان کے اندر کوئی قدرتی آفت آجائے سیلاب ہویا کوئی اور آفت جماعت اسلامی کے کارکن اور قیادت سرگرم نظرآتی ہے حالیہ کرونا وائرس میں پوری قوم نے دیکھا کہ جماعت اسلامی کے رضاکاروں نے کس طرح جان ہتھیلی پر رکھ کر انسانیت کو بچایا،رنگ نسل اور مذہب سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت کی مثال قائم کی،خد مت صحت اور تعلیم کے میدان میں کارہائے نمایاں سرانجام دیے۔
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ گواہ ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر اور رہتے ہوئے اپنے کردار کو منوایا پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے سرٹیفیکٹ دیاکہ اگر پاکستان کے آئین کی دفعہ 63,62کا نفاذ ہواتو پارلیمنٹ میں سراج الحق یعنی جماعت اسلامی کے سوا کوئی نہیں بچائے گا،یہ اس حقیقت کا کھولا اعلان تھا کہ اگر کردار کسی نے پیش کیاہے تو وہ جماعت اسلامی ہے انسانوں کی کردارسازی جماعت اسلامی کا ہدف ہے،جماعت اسلامی انسانوں کی کردار سازی کا اہتمام کرتی ہے،اللہ اور مخلوق کے سامنے جوابدہی کا خوف نہ ہوتو انسان کو برائی سے کوئی نہیں روک سکتا۔جماعت اسلامی انسانوں کے اندر خوف خدا پیدا کرتی ہے اور یہ تصور راسخ کرتی ہے کہ انسان نے اپنے اللہ کو جواب دینا ہے ۔یہی وہ راسخ عقیدہ ہے جوانسان کو برائی سے روکے رکھتاہے۔ان کو باکردار بنا دیتاہے جماعت اسلامی کی قیادت اور کارکنوں کوقوم حب وطنی کا سرٹیفکیٹ دے چکی ہے۔
ان سارے امتیازی تمغلوں کو سینے پر سجانے والی جماعت اسلامی کو عوام اقتدار سے کیوں دور رکھے ہوئے ہیں؟یہ اہم سوال ہے ؟کیاجماعت اسلامی کی سیاسی حکمت عملی میں کوئی کجی ہے؟عالمی اسٹبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آئے؟وہ ایسا کیوں نہیں چاہتی ان کو جماعت اسلامی سے کیا خوف لاحق ہے؟حالانکہ جماعت اسلامی کا کردار پوری دنیا کے سامنے ہے۔جماعت سلامی کسی کے خلاف کوئی عزائم نہیں رکھتی،عالمی اسٹبلشمنٹ کو بی جے پی او رمودی قبول ہیں جو ہندوتوا سوچ کے ساتھ تمام مذاہب کے لوگوں کو جبرا ہندو بنانے کا ایجنڈے کر آئے ہیں۔اسرائیل میں لیکوڈ پارٹی قبول ہے جو فلسطینیوں کے قتل عام پریقین رکھتی ہے۔
تیونس ،الجزائر،مصر اور ترکی میں اسلامی تحریکوں کی کامیابی کے بعد عالمی اسٹبلشمنٹ کے رویے سے یہ راز افشاں ہوتا ہے کہ مغربی اسٹبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ کسی بھی اسلامی ملک میں اسلامی تحریک برسراقتدار آئے،جہاں عوام نے منتخب بھی کیا وہاں عالمی اسٹبلشمنٹ نے عوامی رائے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بلڈوز کروادیا،مغربی اسٹبلشمنٹ اپنے لیے جمہوریت چاہتی ہے مگر اسلامی ممالک میں جمہوریت نہیں چاہتی،اسلامی تحریکوں کو کیوں فوکس کیاہواہے اس کا سبب یہ معلوم ہوتاہے کہ اسلامی تحریکیں چاہتی ہیں کہ اسلامی ممالک خوش حال ہوں ترقی کریں عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں اسلامی ممالک قرضوں سے آزاد ہوں تاکہ آزاد پالیسیاں بنا سکیں۔مغربی اسٹبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ اسلامی ممالک ترقی کریں اپنی آزاد پالیسیاں تشکیل دیں وہ ان کو غلام رکھنا چاہتی ہے مگر اسلامی تحریکیں اس غلامی سے قوم او رر ممالک کو آزا دکروانا چاہتی ہیں،یہ بنیادی جنگ ہے جو اسلامی تحریکوں اور مغربی اسٹبلشمنٹ کے درمیان برپا ہے اور ایک عرصے سے برپا ہے۔
عالمی اسٹبلشمنٹ اسلامی ممالک میں اپنے مہروں کے ذریعے یہ کام لے رہی ہے ،قوم کو قرضوں میں جکڑا جارہاہے مہنگائی او ربے حیائی عام کی جارہی ہے،قومی حمایت او رغیر ت کا جنازہ نکالاجارہاہے،ایسے میں اسلامی ممالک کے عوام ان سازشوں کا ادراک کرکے اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے فیصلے خود کریں تو یہ سازشیں ناکام ہوسکتی ہیں،اس کام کے لیے اسلامی تحریکوں کو بھی راستے بنانے کے لیے اپنی حکمت عملی نئے انداز سے تربیت دینے کی ضرورت ہے۔بڑے پیمانے پر میڈیا کے ذریعے عوام الناس تک اپنا پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے،اسلامی تحریکیں ہی اسلامی ممالک کے عوام کی تقدیر بدل سکتی ہیں،آج نہیں تو کل قوم کو اس پر آنا ہوگا کہ اسلامی پاکستان ہی خوشحال پاکستان بن سکتاہے اور کشمیراور فلسطین کی آزادی کا ضمانت بن سکتاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں