13

کالعدم جماعت کا احتجاج،سڑکیں بلاک،دوران ڈیوٹی 2 پولیس اہلکارحادثےمیں شہید

لاہور:کالعدم جماعت کے احتجاج کے باعث لاہور میں سڑکیں بلاک ہوگئیں جبکہ مخصوص علاقوں میں موبائل اور انٹر نیٹ سروس بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، احتجاج کے دوران ڈیوٹی کرتے ہوئے 2پولیس اہلکار حادثے میں شہید ہوگئے۔اہلکاروں کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔لاہور میں کالعدم جماعت کی جانب سے احتجاج کے باعث انٹرنیٹ اورٹریفک کی آمدورفت بری طرح متاثر ہے جبکہ 6 مقامات پر انٹرنیٹ سروس معطل ہے جن میں سمن آباد، سبزہ زار، شیرا کوٹ، نواں کوٹ ،اقبال ٹاؤن،گلشن راوی کے علاقے شامل ہیں۔بابو صابو سے سکیم، سکیم موڑ سے یتیم خانہ ٹریفک کےلئے بند ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کوشدیدمشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگرنے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کو گرفتار کریں گے جبکہ کالعدم جماعت کے کارکنوں کو اسلام آباد جانے سے روکیں گے۔دوسری جانب کالعدم تنظیم کے احتجاج کے معاملے پر جڑواں شہروں کی پولیس نے فیض آباد انٹرچینچ کو چاروں اطراف سے بلاک کر دیا اور کنٹینروں کے دونوں اطراف مٹی کے ڈھیر لگا دیئے گئے ہیں جبکہ پولیس کے 4500 سے زائد اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کالعدم تنظیم سے مذاکرات کیلئے پنجاب کابینہ کے سینئر اراکین کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کالعدم تنظیم سے مذاکرات کیلئے کمیٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی میں راجہ بشارت اور چودھری ظہیرالدین شامل ہیں عثمان بزدار نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی سنت کے مطابق ملک میں امن و امان کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا احتجاج خود نمائی کے سوا کچھ نہیں، موجودہ ملکی حالات میں انتشار کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں، مظاہرے کرنےوالوں کو عوام کے مسائل سے غرض نہیں، یہ صرف اقتدار سے دوری کے باعث تڑپ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں