44

3 دسمبر معذور افراد کا عالمی دن

معذور افراد کا عالمی دن دنیا بھر میں ہر سال3 دسمبر کو منایا جاتا ہے، اقوام متحدہ میں معذور افراد کی داد رسی کیلئے یہ دن منانے کا فیصلہ1992ء میں ایک قرارداد کے ذریعے کیا گیا جس کا م مقصد دنیا بھر میں معذوروں کو درپیش مسائل کا اجاگر کرنا اور معاشرے میں ان افراد کی افادیت پر زور ڈالنا ہے۔ معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فورسز کے ہاتھوں پیلٹ گنز اور تشدد کے ذریعہ بے دردی سے معذورہونے والے متاثرہونے والے افراد بھی عالمی توجہ اور یکجہتی کے منتظر ہیں۔ جبکہ اس حوالہ سے دفتر ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، اقوام متحدہ، بین الاقوامی میڈیا اور سول سوسائٹی نے ان مظالم کی متعدد بار مذمت بھی کی۔ دفتر ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق(او ایچ سی ایچ آر)کی کشمیر رپورٹ 2019 کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 2016 کے وسط سے لے کر 2018 کے آخر تک بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں پیلٹ گنز کے چھروں سے 1253 افراد کو بینائی سے محروم کردیا ہے۔جبکہ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد سے ہی مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنوں سے معذور افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بھی پیلٹ گنز سے مقبوضہ کشمیریوں میں بینائی سے محروم خواتین اور بچوں کی تعداد میں اضافے کا اعتراف کیا گیا ہے۔ کشمیریوں کو بنیادی آزادی سے محروم رکھنے کے باوجود بھارتی قابض افواج نے گزشتہ ہفتوں سے مقبوضہ وادی میں اپنے جبر کو مزید تیز کر دیا ہے جبکہ ماورائے عدالت قتل، گرفتاریوں، سیکڑوں عام کشمیری اور حریت رہنماؤں کو سخت قوانین کے تحت نظر بند کرنے اور کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران گزشتہ ماہ نومبر میں 20 کشمیریوں کو شہید کیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق قابض فوجیوں نے ان میں سے 8کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں یا دوران حراست شہید کیا۔اس دوران بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے پرامن مظاہرین اور سوگواروں پر گولیوں، پیلٹ گنز اور آنسو گیس سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کم سے کم 18افراد زخمی ہوگئے۔ مقبوضہ علاقے میں تلاشی اور محاصرے کی209 کار ر وائیوں کے دوران 66شہریوں جن میں بیشتر نوجوان، کارکن اور طلبا شامل تھے کو گرفتار کرلیاگیا۔ ان میں سے متعدد پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا کالاقانون یو اے پی اے لاگو کردیاگیا۔ان شہادتوں کے نتیجے میں تین خواتین بیوہ اورچھ بچے یتیم ہو گئے۔بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ ایک مکان کو نقصان بھی پہنچایا۔ جبکہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق(او ایچ سی ایچ آر) کے دفتر نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے سرکردہ محافظ خرم پرویز کی کالے قانون”یو اے پی اے” کے تحت گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکی رہائی پر زور دیا ہے۔بھارت کی انسداد دہشت گردی کی اعلیٰ تحقیقاتی ایجنسی نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے ایک سرکردہ رضاکار خرم پرویز کو ان کے گھر اور دفتر پر چھاپہ مارنے کے بعد گرفتار کرلیا تھا۔مگر بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر تنازعہ کے مستقل حل سے ہی خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔ پیلٹ گنز کے بے دریغ استعمال سے بڑے پیمانے پر کشمیری نوجوان نابینا ہوگئے، اس تمام جبر کے باوجود بھارت کشمیریوں کے ارادوں کو توڑنے میں ناکام رہا ہے۔کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنا حق خودارادیت مانگ رہے ہیں، کشمیر اور فلسطین کی صورتحال تاریخ کی بہت بڑی ناانصافی ہے، دنیا اور او آئی سی ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔گزشتہ 3سال میں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہوچکی ہے، 5 اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں میں تیزی آئی۔ بھارتی حکومت نے ڈھٹائی سے کشمیریوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا، کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل اور تشدد کر کے معذور کیا گیا جبکہ بڑی تعداد میں حریت پسند رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا گیااس کے باوجود ظلم کا ہرحربہ استعمال کر کے بھی بھارت کشمیریوں کی تحریک دبانے میں ناکام رہا، کشمیریوں کو بھارتی قبضے، جبر سے آزادی کے مطالبے پر نشانہ بنایا جارہا ہے، کشمیری مسلمانوں کوحق خودارادیت کے ساتھ مذہبی آزادی سے بھی محروم کیا جارہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو اکثریت اور الگ شناخت کھونے کا خطرہ ہے، کشمیر کی تازہ صورتحال جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے مترادف ہے۔مقبوضہ کشمیر جعلی مقابلوں کے تمام متاثرین جو یا تو ذہنی طور پرکمزور تھے یا جسمانی طور پر معذوری کا شکار انہیں عسکریت پسند قرار دے کر شہید کردیاگیا۔ جعلی مقابلوں کے بیشتر واقعات میں ملوث بھارتی فوجیوں کوانکوائری کمیشنوں کی طرف سے بری کئے جانے کے بعد ترقیوںاور انعامات سے نوازا گیا۔ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کی طرف سے اکھٹے کئے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2000 سے لے کر 2020 تک جعلی مقابلوںمیں ذہنی طورپر کمزور نہتے کشمیریوں کو عسکریت پسند قراردے کر قتل کئے جانے کے سینکڑوں واقعات پیش آچکے ہیں۔گزشتہ سال کشمیر میں ایک ذہنی طور پر معذور شخص کو بھارتی فوجیوں نے فائرنگ کر کے زخمی کردیاتھا۔ بھارتی حکومت نے اپنے غیر قانونی اقدامات کے خلاف نہتے کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے ان پر مظالم کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔معذورافراد کے عالمی دن کے موقع پرکشمیری دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دباؤ ڈال کر بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں معصوموں کو نابینا اور معذور کرنے سے روکے۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کو معذوری کا ظالمانہ ذریعہ بننے سے روکے، پاکستان بھارتی قابض فورسز کی پیلٹ گنز اور بہیمانہ تشدد سے معذور ہونے والے شہریوں کے ساتھ ہے، اقوام متحدہ، عالمی میڈیا، سول سوسائٹی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی پر زور مذمت کی ہے۔ہیومن رائٹس کمشنر دفتر کی 2019ء کی رپورٹ نے چشم کشا انکشافات کئے تھے جس کے مطابق قابض بھارتی فورسز نے 2016ء کے وسط سے بذریعہ پیلٹ گنز 1253 افراد کی بینائی چھینی، رپورٹ جاری ہونے کے بعدمقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز سے بینائی چھننے کے واقعات بڑھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ”کشمیر میں بینائی سے محرومی: پیلٹ گنز کے اثرات” پر رپورٹ کا اجراء کیا ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رپورٹ میں پیلٹ گنز سے متاثرہ کشمیریوں کی تصویر کشی کی، رپورٹ میں پیلٹ گنز سے نابینا ہونے والوں میں زیادہ تر بچوں اور خواتین کی تصاویر شامل کی گئیں۔ عالمی برادر ی بھارت پر زور دے کہ وہ ظلم و تشدد کے بہیمانہ طریقے ترک کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کے حل پر توجہ مرکو ز کرے جو جنوبی ایشیاء کے خطے میں عدم تحفظ اورعدم استحکام کی بڑی وجہ ہے۔ معذور افراد کا عالمی دن اس بات کا متقاضی ہے کہ عالمی برادری بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان پیلٹ گنز کے استعمال اور مظالم سے روکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں