مظفرآ باد:آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں چیف سیکرٹری خوشحال خان اور آئی جی پولیس کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے ریاستی اقدامات اور لاء اینڈ آرڈر کے حوالے سے خصوصی پریس کانفرنس کی۔چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان نے کہا کہ بجلی کا نرخ پونے 3 روپے فی یونٹ ہونے سے سالانہ 8 سے 10 ارب روپے نقصان کا خدشہ ہے۔ آٹے اور بجلی پر بھاری سبسڈی کے باعث حکومتی اخراجات اور مالی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوا جبکہ سبسڈی پالیسی کے نتیجے میں حکومتی وسائل پر اضافی دباؤ پڑا۔ انہوں نے کہا کہ آٹے کی قیمت خطے سے کم رکھنے پر مارکیٹ میں منفی رجحانات سامنے آنے لگے اور سرکاری خزانے سے تقریباً 20 سے 25 ارب روپے حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر کو اس میں اپنے باقی ضروریات سے کاٹ کے لگوانے پڑے۔انہوں نے کہا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی لیڈرز خوفزدہ ہیں، ہلاکتوں اور تشدد کی اپنی تحریک سے اب نتائج کا سامنا کر رہے ہیں اور کوئی بلینکٹ امیسٹی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی بلیک میلنگ دفن ہو گئی اور پرامن، سولائزڈ اور منطقی بات چیت کا دور شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی لیڈرز پر ہلاکتوں اور تشدد کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اب قانونی کارروائی کا وقت ہے۔چیف سیکریٹری نے کہا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت مذاکرات اور ثالثی کے عمل پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور ناکامی کے ڈر سے آپس میں ہی الجھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی قانون کی گرفت اور سزا سے بچنے کے لیے معصوم بچوں اور خواتین کو انسانی ڈھال بنانے کی مجرمانہ اور بزدلانہ حکمت عملی اختیار کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو 12 نشستوں کے مسئلے پر حکومت نے متعدد آئینی آپشنز پیش کیے، جن میں آل پارٹیز کانفرنس، اسمبلی اجلاس اور عدالتی راستہ شامل تھا۔ حکومت نے مذاکرات کے تمام دروازے کھلے رکھے جبکہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبات دو سے بڑھا کر 38 اور پھر مزید اضافی نکات تک لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے محرم الحرام کے تقدس کے پیش نظر تحمل کی اپیل کی لیکن اس کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ سڑکوں کی بندش اور پرتشدد کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔ کئی سڑکوں پر درخت کاٹ کر شاہراہیں بند کی گئیں۔ تمام راستے کھلوانا حکومت کی ترجیح ہے تاکہ ضروری اشیاء کی ترسیل متاثر نہ ہو کیونکہ بندشوں کے باعث لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والی عوام شدید مشکلات کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے کئی علاقوں میں سامان لے جانے والے ٹرکوں کو روکنے اور جلانے کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ راولاکوٹ میں امدادی سامان سے بھرے ٹرک ہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بازیاب کروایا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں آٹے اور بجلی پر سبسڈی پاکستان سے زیادہ ہے چیف سیکریٹری نے اس حوالے سے آٹے اور بجلی کے نرخوں کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا۔چیف سیکریٹری نے مزید کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بیرون ملک کارکن پاکستان اور پاک فوج مخالف نعرے لگا رہے ہیں اور ہندوستان سے مدد مانگ رہے ہیں۔ پاکستانی سفارتخانوں کے سامنے احتجاج اور مخالف نعرے بازی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست عوام کے حقوق کا تحفظ پہلے بھی کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ امن و استحکام کے لیے تمام آئینی و قانونی اقدامات جاری رہیں گے اور گن پوائنٹ پر کبھی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر عوام کو گمراہ کر کے استعمال کر رہے ہیں اور ان کے بعض رہنما ملک دشمن قوتوں کے ایجنڈے پر کارفرما ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھیں گے۔اس موقع پر آئی جی پولیس آزاد کشمیر کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی نے کہا کہ 5 جون کو چیک پوسٹ پر معمول کی چیکنگ کے دوران کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے گاڑی سے اندھا دھند فائرنگ کی جس سے کالعدم ایکشن کمیٹی کا ایک شرپسند مارا گیا اور ان کا سرغنہ عمر نظیر زخمی ہوا جبکہ ہمارے دو اہلکار زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم سے یہ بات واضح ہوئی کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ڈرائیور کو گردن کے پچھلے حصے میں گولی لگی، جس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ پیچھے بیٹھے کارندے کی جانب سے فائرنگ کے دوران بلواسطہ یا بلاواسطہ گولی ڈرائیور کو لگی اور ریاست پر بے بنیاد الزام لگایا گیا۔آئی جی پولیس نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے سی ایم ایچ پر حملہ کیا اور سیکیورٹی پر مامور تین پولیس اہلکاروں پر بہیمانہ تشدد کیا، انہیں چھریاں مار کر شہید کر دیا جبکہ مریضوں اور طبی عملے کو بھی شدید زدوکوب کیا۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال کو شرپسندوں کے چنگل سے چھڑوانے کے بعد فلیگ مارچ کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے فائرنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے شر پسند یاد رکھیں کہ ریاست مخالف سرگرمیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ریاستی رٹ ہر قیمت پر قائم کریں گے۔آئی جی پولیس نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور برقعوں میں ہتھیار چھپانے کی بھی اطلاعات ہیں، جس کے پیش نظر تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے سرغنوں کی جانب سے ریاست کے ملازمین اور فوجی جوانوں کو بغاوت پر اکسانے کی مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ لانگ مارچ نہیں بلکہ منظم لشکر کشی ہے، آئی جی پولیس نے واضح کیا کہ ریاست کی جانب سے غیر مشروط سرنڈر کرنے والوں کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔
83










