18

ملازمین کو نکالنے پر ٹوئٹر کے خلاف مقدمہ دائر

ملازمین کو بڑے پیمانے پر نکالنے پر ٹوئٹر کے خلاف مقدمہ دائر کردیا گیا ہے۔خیال رہے کہ ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کا کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد ملازمین کو نکالے جانے کی رپورٹس سامنے آرہی تھیں اور یہ عمل 4 نومبر سے شروع ہوگیا۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر کے ملازمین کی جانب سے سان فرانسسکو کی فیڈرل کورٹ میں کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ امریکی قوانین کے تحت 100 یا اس سے زائد ملازمین والی کمپنیوں کے لیے بڑے پیمانے پر لوگوں کو نکالنے سے قبل 60 دن کا نوٹس دینا ضروری ہے۔خیال کیا جارہا ہے کہ چھانٹی کے اس عمل کے دوران کمپنی کے 50 فیصد ملازمین کو نکالا جاسکتا ہے۔کمپنی کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسی سلسلے میں دفاتر عارضی طور پر بند کردیے جائیں گے۔مگر اس مقدمے میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ ٹوئٹر کو قوانین پر عملدرآمد کی ہدایت کی جائے اور ملازمین کو ان کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔ملازمین کی جانب سے ایک وکیل Shannon Liss-Riordan خدمات حاصل کی گئی ہیں جو اس سے قبل ٹیسلا سے ملازمین کی برطرفی کا مقدمہ بھی لڑ چکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں