180

ٹوئٹر ملازمین کو نکالنے سے امریکا کے وسط مدتی انتخابات متاثر ہونے کا خدشہ

ایلون مسک کی جانب سے کی جا رہی ٹوئٹر میں چھانٹیوں کے امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر بھی منفی اثرات پڑنے کا واضح خدشہ ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے 4 روز پہلے ٹوئٹر کا وہ اہم اسٹاف بھی فارغ کر دیا گیا ہے جسے انتخابات سے متعلق غلط معلومات کی حقیقت ظاہر کرنا تھی۔برخاست ملازمین میں سے کئی گمراہ کن ٹوئٹس سے متعلق حقائق سامنے لانے پر مقرر تھے جبکہ بعض انتخابی مہم پر مامور اسٹاف سے رابطوں پر مقرر تھے، برخاست ملازمین میں سے بعض صحافیوں سے رابطے کرکے افواہوں کا جواب دینے کے بھی ذمہ دار تھے۔رپورٹس کے مطابق ٹوئٹر کے برخاست ملازمین میں سے بعض کو الیکشن کی مانیٹرنگ کرنا تھی اور بعض کو بیرونی مداخلت کی علامات تلاش کرنا تھیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جن افراد کو فارغ کیا گیا ان میں مڈٹرم الیکشن کی ٹوئٹر پر ادارتی پلاننگ کرنیوالے کیون سیلیوان بھی شامل ہیں۔یاد رہے کہ ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کا کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد ملازمین کو نکالے جانے کی رپورٹس سامنے آرہی تھیں اور یہ عمل 4 نومبر سے شروع ہوگیا، چھانٹی کے اس عمل کے دوران کمپنی کے 50 فیصد ملازمین کو نکالا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں