8

عالمی یوم صحت اور ہماری صحت

سیانے کہتے ہیں جان ہے تو جہان ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ پولیو سے بچنے کی تدبیر اپناتے ہیں ،تو ڈینگی آ دھمکتا ہے اور ڈینگی سے محفوظ رہنے کی تراکیب پر عمل کرتے ہیں تو ملیریا سروں پر سوار ہو جاتا ہے۔ خیر یہ تو بڑی بڑی بیماریاں ہیں،ہمارے پاس بد قسمتی سے علاج کے لئے پہلی بات یہ کہ ہسپتال ہی نہی،اور اگر ہسپتال مل جائے تو پیرا سیٹا مول کے علاوہ کوئی دوا ملنے کی امید نہیں ہوتی۔دنیا بائیو ٹیکنالوجی،کلوننگ اور جینیٹک انجنئیرنگ کے ذریعے صحت کے میدان میں انقلابی تبدیلیاں لا چکی ہے،لیکن ہم شومئی قسمت سے آج بھی فلے جل اور پینا ڈول کو ترس رہے ہیں۔ اس کو بد قسمتی کہا جائے یا ناہلی۔۔۔۔ اس کا فیصلہ قارئین کریں گے۔
قارئین محترم! دنیا بھر میں آج سات اپریل کو صحت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ جب تک میری یہ سطور شائع ہوں گی اس وقت تک شائد دنیا مستقبل کے لئے صحت کی نئی حکمت عملیاں مرتب کر چکی ہو گی۔ لیکن جب ہم صحت کی صورتحال کو اپنے وطن عزیز میں بنظر طائرانہ دیکھتے ہیں تو لگتا ہے کہ دنیا سے الگ تھلگ پتھر کے دور میں جی رہے ہیں۔اس وقت عالمی صحت کا دن منانے کا مقصد ڈینگی سے نجات،ملیریا اور ویکسین پر فوکس کیا جا رہا ہے۔ بد قسمتی سے ساری دنیا میں پولیو کے مریض اس وقت پاکستان میں ہیں۔ اس کے علاوہ صفائی کے ناقص انتظام اور جگہ جگہ پانی کے رکنے کی وجہ سے ملیریا اور ڈینگی جیسے خطرناک مرض پاکستان میں روز بروز بڑھ رہے ہیں۔عوام کے ساتھ ساتھ حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ،جب کہ ان امراض سے سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔دوسری طرف جہالت کی وجہ سے اکثر دیہی علاقوں میں پولیو کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے والی ویکسین کو لوگ استعمال ہی نہیں کرنے دیتے،بلکہ پولیو ٹیموں پر قاتلانہ حملوں کی کئی وارداتیں ہو چکی ہیں۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے اور ہم ابھی تک سو سال پیچھے ماضی کی جاہلانہ سوچ سے چھٹکارہ نہیں حاصل کر پائے۔
جب تک ملک سے سیوریج اور گندے پانی کا نظام بہتر نہیں ہو گا تو تب تک ظاہر ہے کہ پانی رکے گا اور عام مچھروں کے ساتھ ساتھ ڈینگی مچھر بھی آسانی سے نمو پائیں گے۔ اس حساب سے روٹ کاز گندا پانی ہے۔ اگر اس کو ختم کر دیا جائے تو مچھر خود بخود ختم ہو جائیں گے ،اور ہم ڈینگی اور ملیریا جیسی مہلک بیماریوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے عوام تک شعور و آگہی ضروری ہے۔ جب مچھروں کی نشو ونما کے لئے ماحول ہی نہیں موجود ہو گا تو پھر ڈینگی اور ملیریا کا تصور ہی نہیں رہتا۔ اس کے لئے ہم سب کو صفائی ستھرائی اور گندگی سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔ ویسے بھی حدیث مبارک ہے کہ،، صفائی نصف ایمان ہے،،۔
یہ تو دنیا کی بات ہے جو ڈینگی،ملیریاویکسینیشن کی اہمیت پر فوکس کئے ہوئے ہے۔ ادھر ہمارا حال کیا ہے اس سے آپ شائد بخوبی واقف ہوں۔ سارے آزاد کشمیر میں ایک بھی دل کے مریضوں کے لئے ہسپتال موجود نہیں۔ اگر کسی کو دل کا دورہ پڑ جائے تو اسے ایمبولینس میں ڈال کر اللہ کے آسرے پر پنڈی یا اسلام آباد روانہ کیا جاتا ہے۔ اس نوعیت میں نوے فیصد دل کے مریض راستے میں ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔اس کے علاوہ اگر خدا نخواستہ کوئی جل جائے تو سارے آزاد کشمیر میں ایک بھی برنٹ یونٹ موجود نہیں۔ جلے ہوئے کو مرہم پٹیاں کروانے کے لئے کھاریاں برنٹ یونٹ میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس کا نجام بھی ایسا ہی ہوتا ہے جو کہ دل کے مریضوں کا۔ اگر خدا نخواستہ کوئی حادثہ ہو جائے تو مریض کی فوری ٹریٹمنٹ کے لئے ہماری سوہنی دھرتی میں کوئی قابل ذکر ہسپتال نہیں۔ چند ماہ پہلے رنگلہ روڈ ایکسیڈنٹ میں امتیاز نامی شخص روڈ ایکسیڈنٹ کے باعث کوہالے سے گزرتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا،لیکن ہسپتال نہ پہنچ سکا۔
کس کس بات کا رونا رویا جائے۔ کسی کی آنکھ میں درد ہو جائے تو چاند میری زمین پھول میرے وطن میں ایک بھی آنکھوں کا ہسپتال موجود نہیں۔ آنکھ کے علاج کے لئے اکثر ٹیکسلا یا الشفاء کا رخ کرنا پڑتا ہے۔آپ شائد سوچ رہے ہوں کہ یہ اداریہ میں آج سے ایک سو سال قبل لکھ چکا ہوں۔ ایسی بات نہیں بخدا میں آج سات اپریل بیس صد چودہ کو وطن ہمارا آزاد کشمیر کے بڑے بڑے صحت کے مسائل بتا رہا ہوں۔
گردوں،پھیپھڑوں اور دیگر اعضائے رئیسہ کے علاج کا بھی کوئی نظام اس وطن میں موجود نہیں۔ مجھے جسٹس منظور الحسن گیلانی صاحب کے اداریے ادراک کے الفاظ یاد آ رہے ہیں کہ اگر اس ملک کو صوبہ یا کوئی انتظامی یونٹ بنا دیا جائے تب بھی یہاں ایسی سہولیات ہی موجود نہیں جن کو بنیاد بنا کر اسے وہ حیثیت دی جائے۔کالم کی وساطت سے ارباب اختیار سے بھرپور گزارش ہے کہ خدا را اس ملک کو اپنا ملک سمجھیں اور اس ملک کے غریب عوام کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھ کر حل کریں۔ چونکہ آج ساری دنیا میں صحت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اس لئے میرے ذہن میں یہ باتیں آگ کے شعلے کی طرح لپک گئیں کہ دنیا کہاں ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔۔۔۔۔۔ فیصلہ آپ خود کیجئے ۔
اگر میری باتوں کی سمجھ نہیں آئی تو صرف اس حدیث مبارکہ پر عمل کرنا شروع کر دیجئے کہ ،،صفائی نصف ایمان ہے،،۔ میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ کے چھوٹے موٹے صحت کے معاملات نبی پاکۖ کی اس حدیث پر عمل کرنے سے ختم ہو جائیں گے۔ اگر نعوذ باللہ شک ہے تو آزما کر دیکھ لیجئے۔ اگر آپ صحتمندانہ ذندگی نہ گزارنا شروع ہوئے تو مجھے اس پر باز پرس کیجئے گا۔ میں جواب دہ ہوں گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ اسلامی تعلیمات کو اپنا شعار بنا دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں