42

ڈی جی اطلاعات راجہ اظہر اقبال کو منفرد خراج تحسین

محکمہ اطلاعات آزاد کشمیر کے ڈائریکٹر راجہ اظہر اقبال37سال کی سروس کے بعد14جون کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔عمومی طورپر کسی بھی سرکاری افسر کو ریٹائر منٹ کے وقت اپنے محکمے کی طرف سے ہی الوداعی تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ جب کسی سرکاری افسر کی ریٹائرمنٹ کے قریب صحافتی تنظیموں، صحافیوں و دیگر کی طرف سے متعدد الوداعی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔ راجہ اظہر اقبال کی محکمہ اطلاعات ، صحافت اور صحافیوں کے لئے گرانقدر کردار پہ ان کے اعزاز میں آزاد کشمیرکے اضلاعی پریس کلبوں ، آل کشمیرنیوز پیپرز سوسائٹی، پریس فائونڈیشن اوردو صحافتی شخصیات کی طرف سے بھی الوداعی تقریبات منعقد کی گئی ہیں۔گزشتہ ایک ماہ سے ہردوسرے تیسرے دن ان کے اعزاز میں الوداعی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔
پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں آل کشمیرنیوز پیپرز سوسائٹی کے صدرامجد چودھری کی طرف سے منعقدہ الوداعی تقریب میں سنیئرصحافیوں کے علاوہ پاکستان کے قائد صحافت افضل بٹ اور نیشنل پریس کلب اسلاآباد کے صدر سمیت انتظامیہ کے دیگر عہدیدار بھی شریک تھے اور یوں اس تقریب کو بلاشبہ آزاد کشمیراور پاکستان کی صحافت کا ایک نمائندہ اجتماع قرار دیا جا سکتا ہے۔اسلام آباد میں سنیئر صحافی عامر محبوب کی طرف سے بھی ایک بڑی تقریب منعقد کی گئی جس میں آزاد کشمیرکے صدر بیرسٹر سلطان محمود چودھری، آزاد کشمیرحکومت کے چند بیورو کریٹ اور صحافیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
محکمہ اطلاعات آزاد کشمیرکا دفتر سالہا سال مظفر آباد میں کسٹوڈین بلڈنگ میں قائم رہا اور2005کے تباہ کن ہولناک زلزلے کے بعد محکمہ اطلاعات کی کئی منزلہ عمارت میں بڑی دراڑیں پڑ گئیں اور اس خستہ حال خطرناک عمارت میں بھی محکمہ اطلاعات کا عملہ اپنا کام کرتا رہا۔ محکمہ اطلاعات کو وسائل کے اعتبار سے آزاد کشمیرکا سب سے کمزور محکمہ قرار دیا جاتا تھا۔ماضی میں کئی معروف افسران محکمہ اطلاعات کے سربراہی کرتے رہے لیکن اس محکمے کی حالت نہ بدلی۔ اسی صورتحال میں راجہ اظہر اقبال نے محکمہ اطلاعات کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالا۔راجہ اظہر اقبال نے محکمہ اطلاعات کو مضبوط بنانے اور اس کے وسائل میں اضافے کے لئے سالہا سال سخت محبت کی اور مختلف مراحل میں محکمہ اطلاعات کو بہتر سے بہتر بناتے گئے۔پہلے اولڈ سیکرٹریٹ میں محکمہ اطلاعات کے دفاتر قائم کئے گئے اور کچھ عرصے بعد نیو سیکرٹریٹ میں محکمے کے لئے بہتر جگہ حاصل کر لی گئی۔ راجہ اظہر اقبال نے محکمے کے وسائل، فنڈز میں مناسب اضافے کے لئے مختلف حکومتوں کے دور میں کوششیں جاری رکھیں اور مرحلہ وار اس صورتحال میں بہتری آتی گئی۔چند ہی سال قبل محکمہ اطلاعات کے لئے ایک الگ عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی اور محکمے کے فنڈز اور وسائل میں بھی بہت اضافہ ہو گیا۔
راجہ اظہراقبال کو اپنی سروس کے دوران آزاد کشمیرکے کئی سینئر سیاستدان حکمرانوں کے علاوہ ریاست کشمیرکی کئی نامور صحافتی شخصیات کے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا ۔راجہ اظہر اقبال نے ایک موقع پہ بتایا کہ ریاست کا ایک معتبر جریدہ ہفت روزہ ‘ کشیر’ ان کے گھر آتا تھا اور وہ اپنے طالب علمی کے دور سے اس کو پڑہتے رہے ۔
راجہ اظہراقبال نے محکمہ اطلاعات کی ترقی اور استحکام کے لئے جو کردارادا کیا وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ گزشتہ دنوں راجہ اظہراقبال نے ایک تقریب میں انکشاف کیا کہ محکمے کی ترقی کے تمام مراحل کے کاموں میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید آصف نقوی ان کے ساتھ تمام امورمیں شامل رہے اور اس حوالے سے راجہ اظہراقبال نے شاندارالفاظ میں آصف نقوی کو خراج تحسین پیش کیا۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ الوداعی تقریب میں راجہ اظہراقبال کی محکمہ اطلاعات اور ریاستی صحافت کے لئے خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے میں نے ان سے گزارش کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوشی سے پہلے محکمہ تعلقات عامہ کے افسران کو مختلف حوالوں سے تفصیلی بریفنگ دیں تا کہ وہ ان کے تجربات اور مقاصد کے طریقہ کارسے بھی آگاہی حاصل کرسکیں۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی تقریب میں محکمہ اطلاعات آزاد کشمیرکے ڈائریکٹر امجد منہاس بھی شریک تھے۔میں نے یہ بھی کہا کہ محکمہ اطلاعات کی ذمہ داریاں معمول کی ذمہ داریوں سے بڑھ کرہیں۔محکمہ اطلاعات کی ذمہ داریوں میں حکومتی اقدامات، سرگرمیوں کی تشہیر، ریاستی اخبارات و صحافت کی امور کے علاوہ تحریک آزادی کشمیر، کشمیرکاز اور آزاد کشمیرحکومت کی حیثیت و مقام کے حوالے سے بھی صحافتی پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے تا کہ محکمہ اطلاعات آزاد کشمیرحکومت کے اس مقصد اعلی کو بھی ترجیح دے سکے جس کے لئے آزاد کشمیرحکومت کا قیام عمل میں آیا۔مجھے توقع ہے کہ راجہ اظہراقبال ان امورکی اہمیت و افادیت سے آگاہ ہیں اور وہ اپنے ساتھی افسران کی توجہ اس جانب بھی ضرورمبذول کرائیں گے۔میری رائے میں راجہ اظہراقبال کواپنی زندگی کے حالات و واقعات،تجربات اور خیالات پرمبنی کتاب ضرور لکھنی چاہئے۔
گزشتہ دو عشروں کے دوران آزاد کشمیرمیں درجنوں روزنامہ اخبارات جاری ہوئے اور ان میں سے کئی ترقی کررہے ہیں تاہم انہی دو عشروں کے دوران عشروں سے جاری متعدد ہفت روزہ اخبارات بند ہوگئے اور اب ایسے ہفت روزہ اخبارات بھی بند ہونے کی صورتحال سے دوچارہیں جنہوں نے تحریک آزادی کشمیر، کشمیرکاز اور آزاد کشمیرکے حقوق کے لئے نصف صدی ایسا بہترین کردارادا کیا جو ریکارڈ پہ موجود ہے اور تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔انہی دو عشروں کے دوران آزاد کشمیرمیں میڈیا کے حوالے سے ایسے متعددقواعد و ضوابط بنائے گئے جو نظریاتی اخبارات کے لئے زہرقاتل ثابت ہوئے تاہم تجارتی مقصد سے جاری اخبارات کو ان سے فائدہ ہی پہنچا۔ایسی ہی ایک مثال پریس فائوندیشن ہے جس کا بنیادی مقصد تو صحافیوں کی فلاح و بہبود ہے لیکن اس کے متعدد قواعد و ضوابط کے ذریعے صحافیوں اور صحافت کو متعدد پابندی میں لایا گیا ۔اب جبکہ وسائل اور دائرہ کارکے حوالے سے محکمہ اطلاعات بہت مضبوط اور موثر ہو چکا ہے، اس بات کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے کہ صحافتی تنظیموں کی نمائندگی کے علاوہ ایسے صحافیوں کی مشاورت کو بھی محکمہ اطلاعات کی پالیسی کا حصہ بنایا جائے جن کا صحافتی کام نمایاں ہے اور ان کی اہلیت، صلاحیت اورصحافت کے موضوع پران کی مضبوط گرفت مسلمہ ہے کیونکہ محکمہ اطلاعات کی ذمہ داریاں حکومتی سرگرمیوں کے علاوہ کشمیرکا زکے حوالے سے بھی ہیں اور کشمیرکاز کے حوالے سے محکمہ اطلاعات کے کام کو موثربنانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں