7

15رمضان عالمی یوم یتامیٰ اور الخدمت فائونڈیشن

یتیم بچوں کی کفالت رب کی رضااور رسول اللہ ﷺ کی رفاقت کا ذریعہ ہے،انسانوں کی خدمت کو انسانیت کی معراج کہاگیاہے انسان بحیثت مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ تعالیٰ انسانوں سے بے پناہ محبت رکھتاہے،اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپناخلیفہ بنا کر دنیا میں بھیجا اور اس کی رہنمائی کے لیے انبیاء بھیجے اور ان پر کتب اور صحیفے نازل کیے تاکہ انسان اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے احکامات اور ہدایات کے مطابق زندگی بسرکرے۔جو لوگ اس عارضی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی بسرکریںگے وہی کامیاب لوگ ہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو نامہ عمال ان کے دہائیں ہاتھ میں دیں گے اور ان کو جنت میں داخل کریںگے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مغائر بغاوت والی زندگی گزاریںگے اللہ تعالیٰ ان کے نامہ عمال ان کے بائیںہاتھ میں دیں گے اور وہ جہنم میں ڈالے جائیںگے جو دہکتی ہوئی آگ ہے،اس بنیاد ی عقیدے کے تحت انسان نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے اور برائی سے رکتاہے۔اگر آخرت کی باز پرس کا معاملہ نہ ہوتا تو یہ معاشرہ جہنم کا منظر پیش کررہاہوتا۔انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ہی عطا کردہ ہے،اور اللہ ہی حکم دیتے ہیں کہ یتیم بچوں کی کفالت کرکے میری رضاحاصل کرو۔اللہ تعالیٰ چاہتے تو براہ براست یتیم بچو ںکی کفالت کراسکتے تھے مگر اللہ تعالیٰ چاہتے ہیںکہ انسانو ںسے یہ کام لیا جائے تاکہ اس کے بدلے میں انسان کو ایک تو اور زیادہ دیاجائے او ر دوسرا یہ کہ انسان کو جنت کا مستحق بنایاجائے۔جو انسان یتیموں اور مساکین پر خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے مال وزر میں اضافہ فرمادیتے ہیں۔
اسلام نے چودہ سوسال قبل یتیم بچوں کی کفالت کا چارٹر دیاجو مختلف انداز سے چلاآرہاہے،خلافت راشدہ کے ادوار میں یتیم بچوں کی کفالت سرکار کی ذمہ داری تھی حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ کفالت کے انداز بھی بدلتے گئے لیکن ہر دور میں معاشرے کے اندر ایسے افراد اور ادارے موجود رہے جنھوںنے اس بیڑے کو اٹھائے رکھا،ترکی کی سماجی تنظیم آئی ایچ ایچ نے او آئی سی کے ممالک کو تجویز دی کہ اسلامی ممالک کی سطح پریتیم بچوں کا کوئی دن منایاجائے اوآئی سی نے اس تجویز سے اتفاق کیا جس کے نتیجے میں15رمضان کو 2013سے یہ دن یتیم بچوں سے یکجہتی کے لیے عالمی یوم یتامیٰ کے طورپر منایاجاتاہے پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھی اس دن کی مناسبت سے قراردادپا س کی اور یوں یہ دن منایاجاتاہے اس دن پوری دنیا اور خاص کر اسلامی ممالک میںاس دن کو اس اہتمام کے ساتھ منایاجاتاہے کہ اہل خیر کو اس طرف مائل کیاجائے کہ وہ اس کام کو نیکی اور ذمہ داری سمجھ کر کریں۔
الخدمت فائونڈیشن پاکستان اور اس کے مختلف ریجن بھرپور انداز سے اس دن کو مناتے ہیں،الخدمت فائونڈیشن آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ریجن بھی پاکستان الخدمت فائوندیشن کی ہدایت کے مطابق ا س دن کو مناتے ہیں،الخدمت فائونڈیشن جہاں دیگر سماجی سرگرمیاں کرتی ہے وہاں الخدمت فائونڈیشن نے کفالت یتامیٰ یا آرفن کیئرپروگرام کے تحت مجموعی طورپر 19ہزار یتیم بچو ںکی کفالت کاہتمام کررہی ہے آزاد کشمیرمیں 15سو یتیم بچوں کی کفالت کی جارہی ہے،فیملی پورٹس پروگرام کے تحت جو خدمت کی جارہی ہے وہ س کے علاوہ ہے یہ بہت بڑا کام ہے جو الخدمت فائونڈیشن سرانجام دے رہی ہے،الخدمت فائونڈیشن نے پاکستان سے باہر نکل کر ترکی اور برطانیہ میں بھی یتیم بچوں کی کفالت اور تعلیم وتربیت کے لیے اغوش سنٹرز قائم کیے ہیں۔
پاکستان کے دوردازعلاقوں میں یتیم بچوں کی مفت تعلیم اورتربیت کے لیے آغوش سنٹر ز قائم کیے ہیں جو مستحق اور بے بس بچوں کی کفالت کررہے ہیں،اس وقت ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں45لاکھ یتیم بچے ہیں،جن میں سے اکثریت غریب بچوں کی ہے،اسی طرح آزاد کشمیرمیںبھی زلزلے میں ہزاروں بچے یتیم ہوگے تھے آئے روزحادثات اور سیز فائر لائن پر فائرنگ اور دیگربیماریوں کی وجہ سے بچے یتیم ہورہے ہیں،گھر کا کفیل اگر دنیا سے چلا جائے تو یتیم بچوں کی کفالت حکومت اور معاشرے کے اہل خیر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی دیکھ بحال اور کفالت کریں اگر حکومت یہ کام نہیں کررہی ہے تو معاشرے کے اہل خیر آگے بڑتے ہیں او راس کار خیر کو کرتے ہیں،الخدمت فائونڈیشن مبارک باد کی مستحق ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر یہ کام کررہی ہے،الخدمت فائونڈیشن یہ کام بلاتخصیص کررہی ہے الخدمت فائونڈیشن کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ ان یتیم بچوں کی مفت تعلیم اور تربیت کا بندوبست ہوسکے۔
الخدمت فائونڈیشن نے کرونا وائرس کے دوران میں جو خدمات سرانجام دیں وہ قابل تحسین ہیں،اسی طرح فلسطین اور افغانستان سمیت دیگر ممالک میںبے حال مہاجرین کی خدمت کرکے پاکستان کا سرفخر سے بلند کیاہے اہل خیر الخدمت فائونڈیشن کے ساتھ دست تعاون بڑھائیںتاکہ معاشرے کے اندر ایسے غریب یتیم بچے جن کاکوئی پرسان حال نہیں ہوتا ان کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں تاکہ وہ معاشرے کے لیے مفید شہری بن کر عوام کی خدمت کرسکیں،الخدمت فائونڈیشن دورداز علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہم کے ساتھ ساتھ جدید ہسپتال قائم کرکے عوام کو مفت اور سستے علاج کی سہولت فراہم کررہی ہے،بے روزگار لوگوں کو روزگارکے لیے قرضے فراہم کرتی ہے،الخدمت فائونڈیشن کی ایمبولنسز کا بہت بڑ ا نٹ ورک ہے ،جس سے عوام کو سہولت فراہم کی جاتی ہے،الخدمت فائونڈیشن عوام کی امیدوں کا مرکز بن چکی ہے،جہاں بھی کوئی قدرتی آفت آتی ہے یا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو عوام الخدمت کی طرف دیکھتے ہیں،اور الخدمت کے لاکھوں رضار کار دن رات عوام کی خدمت کے لیے تیار رہتے ہیں کرونا وائرس ہو دیگر حادثات پوری قوم نے دیکھا کہ الخدمت فائونڈیشن کے رضا رکار سب سے پہلے پہنچ کر عوام کو ریلیف فراہم کرتے ہیں اور بحالی تک موجود رہتے ہیں۔بلاشبہ الخدمت فائونڈیشن قومی اثاثہ ہے اس کو محفوظ اور مضبوط بنانے کے لیے اہل خیر دست تعاون دراز کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں