19

پاکستان کاسرمچار کے ذریعے ایران کو جواب،سیستان میں ملٹری آپریشن،متعدد دہشتگرہلاک

پاکستان نے بلوچستان پر حملے کے جواب میں آپریشن مرگ بر ، سرمچار کے ذریعے ایران کو جواب دے دیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نیصبح ایران کے صوبے سیستان میں دہشتگردوں کی مخصوص پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا، پاکستان کی کارروائیوں میں متعدد دہشتگرد مارے گئے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دہشت گرد ایران کے حکومتی عمل داری سے محروم علاقوں میں مقیم تھے، انٹیلی جنس معلومات پر کیے جانے والے اس آپریشن کا نام مرگ بر،سرمچار رکھا گیا۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ سنگین خدشات پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے نام نہاد سرمچار بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہاتے رہے، کارروائی پاکستان کے تمام خطرات کے خلاف قومی سلامتی کے تحفظ اور دفاع کاغیر متزلزل عزم ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دہشتگردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد والے ڈوزیئرز بھی ایران کے ساتھ شیئر کیے گئے، انتہائی پیچیدہ کامیاب آپریشن پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کامنہ بولتا ثبوت ہے، پاکستان اپنے عوام کے تحفظ اور سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرتا ہے، آج کی کارروائی کا واحد مقصد پاکستان کی اپنی سلامتی اور قومی مفاد کا حصول تھا، پاکستان کی سلامتی اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کو برقرار رکھتا ہے، یو این چارٹر اصولوں میں رکن ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری شامل ہے، پاکستان کبھی اپنی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کوچیلنج کرنیکی اجازت نہیں دے گا۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران برادر ملک ہے اورپاکستانی عوام ایرانی عوام کیلیے عزت اور محبت رکھتے ہیں، ہمیشہ دہشتگردی سمیت مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنیکیلئے بات چیت اور تعاون پر زور دیا، آئندہ بھی مشترکہ حل تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے، پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرتا ہے۔پاکستان نے بلوچستان کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی اور دو طرفہ تعلقات کے منافی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس حملے کی تمام تر ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔پاکستان نے بلوچستان پر حملے کے جواب میں ایران میں تعینات سفیر مسعود ٹیپو کو وطن واپس بلا لیا تھا جبکہ ایرانی سفیر کو بھی ملک بدر کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں