121

نواز شریف وطن واپس آئیں گے یا نہیں؟لیگی کارکنان کیلئے خبر آگئی

سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ یہ ہرگز سچ نہیں ہے کہ انہیں وزیراعظم بننے سے روکا گیا، طے کرلیا تھا کہ اکثریت نہیں ملی تو وہ وزیراعظم کے امیدوار نہیں ہوگے، اس میں کوئی راز نہیں،عمران خان نے میری بات مانی ہوتی تو ہمیں تکالیف نہ اٹھانی پڑتیں،پاک بھارت تعلقات بہتر ہونے چاہئیں۔صدر مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف نے پاکستان روانگی سے قبل لندن کے علاقے پارک لین میں واقع فور سیزن ہوٹل میں چائے کی نشست پر نجی ٹی وی سے گفتگو کررہے تھے ۔انہوں نے کہاکہ میں ایسا کچھ نہیں کہنا چاہتا جو مشکلات یا عدم استحکام کا باعث بنے، یہ آخری چیز ہے جو میں ملک کے لیے کرنا چاہتا ہوں۔سابق وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورے کے دوران بھارتی کرکٹ ٹیم کے چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان نہ آنے کے فیصلے پر بات کی تھی، اس حوالے سوال کیا گیا کہ کیا وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ ڈپلومیسی پر یقین رکھتے ہیں؟۔نواز شریف نے معاملے کی پیچیدہ نوعیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ پاک بھارت تعلقات کا موضوع منفرد ہے، کوئی بھی ایماندارانہ جواب کسی بھی ایک فریق کے لیے تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے بردباری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور جارحانہ بیانات سے گریز کرنا ہوگا، خطے کا سینئر ترین سیاستدان ہونے کے ناطے میں کوئی غلط فہمی نہیں چاہتا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی دوبارہ کامیابی پر خیرمقدمی پیغام پر بھارتی بے التفاتی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ ’ ہم دونوں ممالک پڑوسی ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، ہمارے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ جب مسائل کی بات آتی ہے تو ہمیں دوستانہ ماحول میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے، اگر کسی ملک سے آپ کے تعلقات بہتر ہوں تو اس کے ساتھ مسائل پر بات کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن اگر آپ ایک دوسرے سے دور رہیں تو مسائل پر بات چیت نہیں کرسکتے۔سابق وزیر اعظم نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسی لیے میں نے کہا تھا کہ ان کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان آنا چاہیے، اگر ایسی صورتحال ہوتی کہ ہمیں کھیلنے کے لیے بھارت جانا ہوتا تو میں چاہتا کہ پاکستان وہاں جانے والی پہلی ٹیم ہو، اس لیے بھارتی ٹیم کو پاکستان جانا چاہیے، اس سے تعلقات بہتر ہوں گے تاہم جب انہیں بھارت کی جانب سے طویل عرصے سے پاکستان پر عائد کردہ سرحد پر دہشت گردی سمیت دیگر الزامات کا حوالہ دیا گیا تو انہوں نے سادہ سا جواب دیا کہ ’ ہم خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں