31

سرکاری ملازمین کی موجیں،تنخواہ میں تاریخ ساز اضافہ

اسلام آباد: وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مالی سال 24-2023 کا 144 کھرب 60 ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی بجٹ 24-2023 کا مجموعی حجم 144 کھرب 60 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔ بجٹ میں نئے ٹیکسز لگانے سے گریز کیا گیا ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے 11 کھرب 50 ارب روپے کی تاریخی رقم مختص کی گئی ہے اور دفاعی اخراجات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اگلے سال ایف بی آر محاصل کا تخمینہ 92 کھرب روپے ہے جس میں صوبوں کا حصہ 52 کھرب 76 ارب روپے روپے ہوگا۔ وفاقی نان ٹیکس محصولات 29 کھرب 63 ارب روپے ہوں گے۔ وفاقی حکومت کی کل آمدن68 کھرب 87 ارب روپے ہوگی۔وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 144 کھرب 60 ارب روپے ہے جس میں سے سود کی ادائیگیوں پر 73 کھرب 3 ارب روپے خرچ ہوں گے۔بجٹ دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ٹیکس وصولی کا ہدف 92 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے جس میں سے براہ راست ٹیکس وصولی کا حجم 37 کھرب 59 ارب روپے ہوگا جبکہ بلواسطہ ٹیکسز کا حجم 54 کھرب 41 ارب روپے ہوگا۔ اس کے علاوہ غیر ٹیکس شدہ آمدنی 29 کھرب 63 ارب روپے ہوگی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ اگلے سال پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 9 کھرب 50 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے ذریعے 2 کھرب روپے کی اضافی رقم کے بعد مجموعی ترقیاتی بجٹ 11 کھرب 50 ارب روپے کی تاریخی بلند ترین سطح پر ہوگا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملکی دفاع کے لیے 18 کھرب 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، گزشتہ مالی سال دفاعی بجٹ 15 کھرب 23 ارب روپے تھا جس میں اس سال اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سول انتظامیہ کے اخراجات کیلئے 7 کھرب 14 ارب روپے مہیا کیے جائیں گے۔ پنشن کی مد میں 7 کھرب 61 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجلی، گیس اور دیگر شعبہ جات کے لیے 10 کھرب 74 ارب روپیکی رقم بطور سبسڈی رکھی گئی ہے۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا میں ضم شدہ اضلاع، بے نظیر پروگرام، ہائیر ایجوکیشن کمیشن، ریلویز اور دیگر محکموں کیلئے 14 کھرب 64 ارب روپے کی گرانٹ مختص کی گئی ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت کو سرکاری ملازمین کی مشکلات کا احساس ہے، افراط زر کی وجہ سے عام لوگوں کی طرح سرکاری ملازمین کی قوت خرید میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ سرکاری ملازمین کی قوت خرید بہتر بنانے کے لیے تنخواہوں میں ایڈہاک ریلیف الانس کی صورت میں اضافہ کیا جارہا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ گریڈ 1 سے16 کے سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہ میں 35 فیصد اضافہ ہوگا، گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 30 فیصد اضافہ ہوگا۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کیلئے درج ذیل موجودہ الانسز میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے:وزیر خزانہ نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی پنشن میں اضافہ کیا جارہا ہے اور سرکاری ملازمین کی کم از کم پنشن اب 12,000 روپے کی جارہی ہے۔ اسلام آباد کی حدود میں کم سے کم اجرت کو 25 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جار ہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ EOBI کی پینشن کو 8,500 سے بڑھا کر 10,000 روپے کرنے کی تجویز ہے۔وفاقی حکومت نے بجٹ میں عام انتخابات کیلئے رقم مختص کی ہے۔ دستاویز کے مطابق عام انتخابات کیلئے 48 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ صحافیوں و فنکاروں کیلئے ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اقلیتوں، اسپورٹس پرسنز اور طالب علموں کی فلاح کے لیے فنڈز اس کے علاوہ ہیں۔ پنشن کے مستقبل کے اخراجات کی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے پنشن فنڈ کا قیام کیا جائے گااسحاق ڈار نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ اگلے مالی سال کے لیے معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جبکہ افراط زر کی شرح اندازا 21 فیصد تک ہوگی۔ بجٹ خسارہ 6.54 فیصد اور Primary Surplus جی ڈی پی کا 0.4 فیصد ہوگا۔ اگلے مالی سال کے لیے برآمدات کا ہدف 30 ارب ڈالر جبکہ ترسیلات زر کا ہدف 33 ارب ڈالر ہے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ اگلے مالی سال کیلئے حکومت نے معاشی ترقی (جی ڈی پی) کا ہدف 3.5 فیصد رکھا ہے۔وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ سرکاری ملازمین کی پنشن میں اضافہ کیا جارہا ہے، سرکاری ملازمین کی کم سے کم پنشن 10 ہزار سے بڑھا کر 12 ہزار کی جارہی ہے، وفاقی حدود میں کم سے کم اجرت 32 ہزار روپے کی جارہی ہے، صوبے اس حوالے سے اپنا فیصلہ کریں گے۔وزیرخزانہ نے بتایا کہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیوٹیوٹ (ای او بی آئی) کے ذریعے پنشن حاصل کرنے والے پنشنرز کی کم سے کم پنشن کو 8500 روپے سے بڑھا کر 10ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مقروض افراد کی بیواں کے 10لاکھ روپے کے قرضے حکومت ادا کرے گی، قومی بچت کے شہدا اکانٹ میں ڈپازٹ کی حد 50لاکھ روپے سے بڑھا کر 75 لاکھ روپے کی جارہی ہے۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے بجٹ کو 360 ارب روپے سے بڑھا کر 400ارب کردیا ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجٹ میں ترسیلات زر کیذریعے غیرمنقولہ جائیداد خریدنے پر 2 فیصد ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے، ریمٹنس کارڈ کی کیٹگری میں ایک نئے ڈائمنڈ کارڈ کا اجرا کیا جارہا ہے، سالانہ 50 ہزار ڈالر سے زائد ترسیلات زر بھیجنے والوں کو ڈائمنڈ کارڈ جاری ہوگا۔بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ قانونی طریقے سے زرمبادلہ کو فروغ کے لیے مندرجہ ذیل مراعات دی جائیں گی۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی زر مبادلہ کا اہم ترین ذریعہ ہیں اور ترسیلات زر ہماری برآمدات کے 90 فیصد کے برابر ہیں۔زرمبادلہ کارڈز کی کیٹگری میں ایک نئے ڈائمنڈ کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے جو کہ سالانہ 50 ہزار ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھیجنے والوں کو جاری کیا جائے گا۔وفاقی حکومت نے نان فائلر پر 50 ہزار سے زائد رقم نکالنے پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا۔آئندہ مالی سال 24-2023 کے بجٹ میں نان فائلر پر 50 ہزار سے زائد رقم نکالنے پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا۔بجٹ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ نان فائلر افراد کی جانب سے بینک سے رقم نکالنے کو دستاویزی اور ان کی ٹرانزیکشن کے اخراجات بڑھانے کیلئے 50 ہزار روپے سے زائد کی رقم نکالنے پر 0.6 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔وفاقی حکومت نے غیر ملکی ملازمین رکھنے والے امیر افراد پر عائد ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے۔بجٹ تجاویز کے مطابق اس وقت کم و بیش 10 ہزار غیر ملکی شہری پاکستان کے امیر گھرانوں میں مددگار کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، اوسطا ہر گھر یلو مددگار کو سالانہ 6000 امریکی ڈالر تک تنخواہ دی جاتی ہے۔تجاویز میں کہا گیا ہے کہ گھریلو مددگاروں کو ادا کی جانے والی رقم پر ایک سال میں دو لاکھ روپے کی شرح سے ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ ورک پرمٹ جاری کرنے والی اتھارٹی غیر ملکیوں کو نوکری پر رکھنے والوں سے یہ ٹیکس وصول کرے گی۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال 24-2023 کے بجٹ میں فری لانسرز کیلئے ٹیکس سہولتوں کا اعلان کردیا۔وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ آئی ٹی اور آئی ٹی خدمات معیشت کے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبے ہیں اور ان کا برآمدات میں نمایاں حصہ ہے، عالمی معیشت میں مسائل کی وجہ سے یہ شعبہ بھی مشکلات کا شکار ہوا پھر بھی ہمیں یقین ہے کہ یہ شعبہ آنے والے سالوں میں Engine of Growth ثابت ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنا کاروبار کرنے والے فری لانسرز کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، ان کو در پیش مسائل کا حل اور عمومی طور پر اس شعبے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ آئی ٹی برآمدات کو بڑھانے کے لیے انکم ٹیکس 0.25 فیصد کی رعایتی شرح لاگو ہے اور یہ سہولت 30 جون 2026 تک جاری رکھی جائے گی، فری لانسرز کو ماہانہ سیلز ٹیکس گوشوارے جمع کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا لہذا کاروباری ماحول میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے 24 ہزار ڈالر تک سالانہ کی برآمدات پر فری لانسرز کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور گوشواروں سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ اس کے علاوہ ان کے لیے ایک سادہ انکم ٹیکس ریٹرن کا اجرا کیا جارہا ہے، آئی ٹی خدمات فراہم کرنے والوں کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنی برآمدات کے ایک فیصد کے برابر مالیت کے سافٹ وئیر اور ہارڈ وئیر بغیر کسی ٹیکس کے درآمد کر سکیں گے، ان درآمدات کی حد 50 ہزار ڈالرز سالانہ مقرر کی گئی ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی ٹی خدمات اور ایکسپورٹرز کے لیے آٹومیٹڈ ایگزیمشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کو یقینی بنایا جائے گا اور IT شعبہ کو ایس ایم ایز کا درجہ دیا جارہا ہے جس سے اس شعبے کو انکم ٹیکس ریٹس کا فائدہ ملے گا۔ان کا کہنا تھاکہ اسلام آباد کی حدود میں آئی ٹی سروسز پر سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح کو 15 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کی جارہی ہے، اس کے علاوہ IT کے شعبے میں قرضہ جات کی فراہمی کو ترغیب کے لیے بینکوں کو اس شعبے میں 20 فیصد کے رعایتی ٹیکس کا استفادہ حاصل ہوگا، اگلے مالی سال میں 50 ہزار آئی ٹی گریجویٹس کو فنی تربیت دی جائے گی۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ زرعی قرضوں کی حد کو رواں مالی سال میں 1800ارب سے بڑھا کر 2250 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ بجلی اور ڈیزل کے بل کسان کے سب سے بڑے اخراجات میں شامل ہیں لہذا اگلے مالی سال میں 50,000 زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ معیاری بیج ہی اچھی فصل کی بنیاد ہے ملک میں معیاری بیجوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ان کی درآمد پر تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کی جا رہی ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ چاول کی پیداوار بڑھانے کے لیے Rice Planters , Seeder اور Dryers کو بھی ڈیوٹی و ٹیکسز سے استثنی کی تجویز ہے۔بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت نے کراچی میں پینے کے پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کیلئے K4 گریٹر واٹر سپلائی اسکیم کیلئے بھی رقم مختص کی ہے۔بجٹ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ K4 گریٹر واٹر سپلائی اسکیم کیلئے 17 ارب 50 کروڑ روپے کی رقم مہیا کی جائے گی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ ان درآمدات کی قیمت میں اضافہ افراط زر کی ایک اہم وجہ ہے۔ اس قیمت میں کمی کرنے کے لیے ہماری حکومت پاکستانی کوئلے کے استعمال اور شمستی توانائی کو فروغ دینے کے لیے پختہ ارادہ رکھتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں کوئلے سے چلنے والے بجلی کے کارخانوں کو ترغیب دی جارہی ہے کہ وہ مقامی کوئلہ استعمال کریں۔ سولر پینلز ، انورٹرز اور بیٹری کے خام مال پر استثنی دیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2023-24 کے بجٹ میں ایشیا میں بننے والی پرانی اور استعمال شدہ 1300 سی سی سے بڑی گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کی حد بندی ختم کردی۔وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ ایشیا میں بننے والی پرانی اور استعمال شدہ 1800 سی سی تک کی گاڑیوں کی درآمد پر 2005 میں ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو محدود کر دیا گیا تھا۔ اب 1300 سی سی سے اوپر کی گاڑیوں کے ڈیوٹی اور ٹیکسز کی حد بندی ختم کی جا رہی ہے۔ڈیوٹی اور ٹیکسز کی حد بندی ختم ہونے کے بعد گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیلی کام سروسز پر 19.05 فیصد کی شرح سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہے جس کو کم کر کے 16 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔بجٹ میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 3.5 فیصد کمی کی تجویز ہے۔وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم صوبائی ذمہ داری ہے لیکن وفاق اس کی ترویج میں اپنا بھر پور حصہ ڈالتا ہے، اس سلسلے میں مندرجہ ذیل اقدامات کیے جا رہے۔ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے لیے موجودہ اخراجات کی مد میں 65 ارب اور ترقیاتی اخراجات کی مد میں 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔تعلیم کے شعبے میں مالی معاونت کے لیے پاکستان انڈومنٹ فنڈ (Pakistan Endowment Fund) کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس کے لیے بجٹ میں 5 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ یہ فنڈز میرٹ کی بنیاد پر ہائی اسکول اور کالج کے طلبہ و طالبات کو وظائف فراہم کرے گا، اس فنڈ کے قیام کا مقصد ہے کہ کوئی بھی ہونہار طالبعلم وسائل میں کمی کی وجہ سے اعلی سے اعلی تعلیم سے محروم نہ ہو۔لیپ ٹاپ اسکیم کو جاری رکھنے کے لیے آئندہ مالی سال میں 10 ارب روپے کی رقم مختص کی کھیل تعلیم کا ایک لازمی حصہ ہیں بجٹ میں اسکول، کالج اور پروفیشنل کھیلوں میں ترقی کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں