6

نریندر مودی کے دورے کے موقع پرمقبوضہ وادی مکمل ہڑتال، آزاد کشمیر بھر میں مظاہرے، ریلیاں

سرینگر ،جموں:غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کے موقع پر مکمل ہڑتال کی گئی،ہرطرف کاروباری مراکزبندرہے،بھارتی فورسزکی بھاری نفری تعینات رہی جس کے باعث ہرطرف ”ہو”کاعالم تھا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہڑتال کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے بھارتی وزیر اعظم کو یہ واضح پیغام دینے کے لیے دی گئی کہ کشمیری اپنے وطن پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو مسترد کرتے ہیں اور وہ اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک وہ اپنا ناقابل تنسیخ حق ، حق خود ارادیت حاصل نہیں کر لیتے۔ قابض بھارتی انتظامیہ نے نریندر مودی کے دورے سے قبل نام نہاد حفاظتی اقدامات کے نام پر مقبوضہ علاقے بالخصوص جموں میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکارتعینات کئے تھے۔فورسز اہلکارتمام بڑے شہروں اور قصبوں کے علاوہ سرینگر جموںشاہراہ پر گاڑیوں اور مسافروں کی مسلسل تلاشی لیتے رہے۔دریں اثنا ء کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموںوکشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کر دیا ہے جہاں بھارتی فوجی روز معصوم نوجوانوں کو قتل کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض بھارتی فوجیوں نے صرف گزشتہ چار دنوں کے دوران 9 نوجوانوں کو شہید کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی اپنے دورے کے ذریعے دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ مقبوضہ علاقے میں حالات بالکل ٹھیک ہیں۔ دریں اثناء مظفرآباد ،نیلم، میرپور ،کوٹلی ،سماہنی ،بھمبر ،راولاکوٹ ،پلندری ،باغ ،دھیرکوٹ:وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموںو کشمیر سردار تنویر الیاس خان کی اپیل پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ مقبوضہ جموںو کشمیر کے خلاف آزادکشمیر بھر اور پاکستان کے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے زیر اہتمام اسلام آباد میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ احتجاجی مظاہرین نے آزادی اورپاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔ وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سازش کررہا ہے، بھارتی سرکار استصواب رائے اپنے حق میں کرنا چاہتی ہے۔کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی سے بھارت خوفزدہ ہے، نہ صرف کشمیر آزاد ہوگا بلکہ اکھنڈ بھارت کا خواب بھی چکنا چور ہو گا۔سردار تنویرالیاس خان نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کے دورہ مقبوضہ جموں و کشمیرکا مقصد اپنی فوج کا مورال بلند کرنا ہے جو جنگ ہارچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ذہنی دبائو کے باعث کشمیر میں روزانہ بھارتی فوجی خودکشی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم کا دورہ کشمیر غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے کیونکہ بھارت 1947 سے کشمیر پر قابض ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم کے دورہ کشمیر کا مقصدعالمی برادری کو مقبوضہ جموںو کشمیر کی اصل صورتحال سے گمراہ کرنا ہے۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ کشمیری قربانیاں آزادی اور حق خودارادیت کیلئے دے رہے ہیں۔بھارت مقبوضہ کشمیرمیں غیرریاستی افراد کی آبادی کی ڈیموگرافی تبدیل کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں سید علی گیلانی و دیگر کئی حریت رہنماوں نے قربانیاں دیں، مقبوضہ کشمیر میں مائوں نے برہان وانی جیسے مجاہد پیدا کیے، بھارت کے حربے کشمیر میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر نے پاکستان کا حصہ بننا ہے، قائداعظم نے کہا تھا کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔سردار تنویر الیاس نے کہا کہ بھارت نے5 اگست2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی، کشمیر میں ہونے والی مزاحمت سے بھارت خوفزدہ ہے، نہ صرف کشمیر آزاد ہوگا بلکہ اکھنڈ بھارت کا خواب بھی چکنا چور ہو گا۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ شہدا ء کشمیر سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر دفن ہوتے ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے کنوینرمحمد فاروق رحمانی نے قابض بھارتی فورسز کی طرف سے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے کنوینر محمد فاروق رحمانی نے کی جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم و صدر پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر سردار تنویر الیاس خان تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ احتجاجی مظاہرے میں حریت رہنما ئوں غلام محمد صفی،فیض نقشبندی،الطاف وانی، ڈپٹی سپیکر چوہدری ریاض گجر،ممبران اسمبلی عبدالماجد خان،چوہدری اکبر ابراہیم،جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی راجہ منصور خان، ڈپٹی سیکرٹری جنرل سردار مرتضی علی احمد، چیئر مین کشمیر کلچرل اکیڈمی ڈاکٹر عرفان اشرف، پولیٹکل سیکریٹری ٹو وزیراعظم کرنل( ر) شجاعت محمود خان سمیت دیگر قائدین اور شرکا نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔یوم سیاہ کے موقع پر آزادکشمیر کے بیس کیمپ دارالحکومت مظفرآباد میں ایک بہت بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ یوم سیاہ کے حوالہ سے نکالی گئی احتجاجی ریلی کی قیادت وزیر حکومت خواجہ فاروق احمد ، پیپلز پارٹی کے رہنماء شوکت جاوید میر، مشتاق الاسلام ،عزیر غزالی اور دیگر نے کی۔ اس موقع پر احتجاجی ریلی میں مہاجرین جموں وکشمیر، ملازمین، تاجر ، وکلاء ،میڈیا، اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے شرکت کی۔ یوم سیاہ کے حوالہ سے نکالی گئی ریلی برہان وانی چوک سے شروع ہوئی اور گھڑی پن چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے آزادکشمیر کے وزیر حکومت خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ آج ہم آزادی کے بیس کیمپ دارالحکومت مظفرآباد میں احتجاج کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو باور کروانا چاہتے ہیں کہ نریندر مودی 5اگست کے ظالمانہ اقدام مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پہلی بار مقبوضہ کشمیر میں اپنے ناپاک قدم رکھ رہا ہے۔ یوم سیاہ کے موقع پر ہم بین الاقوامی برادری خصوصا امریکہ او ربرطانیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جیسے روس یوکرین جنگ میں امریکہ اور برطانیہ نے روس کے ساتھ تعلقات ختم کر دیے ہیں ایسے ہی ہندوستان کے ساتھ تعلقات ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب کشمیریوں کی بات ہوتی ہے تو عالمی برادری کا دہرا معیار سامنے آجاتا ہے۔ خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری ہندوستان پر دبائو بڑھائیں تاکہ وہ کشمیر یوں کو ان کا حق ، حق خودارادیت دے۔ دریں اثناء کوٹلی،نیلم ،سماہنی ،بھمبر،پلندری میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ کوٹلی میں ریلی احاطہ کچہری اور مین روڈ کا چکر لگاتے ہوئے ڈی سی آفس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی،ریلی کے شرکا نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں اور وہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے مظالم اور ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ مقبوضہ کشمیر کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ نریندر مودی کشمیریوں کا قاتل ہے کشمیر ی مودی کے ناپاک قدم کشمیر کی دھرتی پر قبول نہیں کرتے۔مقررین نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے اور انھیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دلانے میں بھی کشمیریوں کا ساتھ دے۔ادھر نیلم میں بھی بھارتی مظالم کیخلاف یوم سیاہ منایاگیا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ مقبوضہ کشمیرکیخلاف کشمیریوں نے سیاہ جھنڈیاں اٹھا کراحتجاج میں شرکت کی ۔مظاہرین بھارتی مظالم اورنریندری مودی کے دورہ مقبوضہ کشمیر پرفلگ شگاف نعرے لگائے۔احتجاجی ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر خواجہ اعجاز احمد کررہے تھے ۔ احتجاجی ریلی میں شہریوں نے بینرز/ پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر بھارت مخالف نعرے درج تھے۔ادھرایل او سی سماہنی سیکٹر میں ایس ڈی ایم حافظ محمدعلی کی قیادت میں بھارت کے خلاف یوم سیاہ منایاگیا،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کامقبوضہ کشمیرکا دورہ مسترد اور مذمت کی گئی ریلی میں سرکاری ملازمین،سول سوسائٹی،وکلائ،صحافیوں،سیاسی سماجی،مذہبی شخصیات سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگ شریک ہوئے۔اس کے علاوہ ضلع بھمبر،ایل او سی سماہنی،ایل او سی برنالہ سیکٹر میں بھارت کے خلاف بھرپور یوم سیاہ منایا گیا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کامقبوضہ کشمیرکا دورہ مسترد اور مذمت کی گئی۔مرکزی ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر مرزا ارشد محمود جرال نے ایس ایس پی چوہدری ذوالقرنین سرفراز،ایس ڈی ایم محمد عیص بیگ،مرزا اجمل جرال،صدرانجمن تاجراں اکرم پپو،ضلعی اداروں کے سربراہان کے ہمراہ کی جس میں انجمن تاجران،سرکاری ملازمین،سول سوسائٹی،وکلائ،صحافیوں،سیاسیاسی سماجی،مذہبی شخصیات سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگ شریک ہوئے۔میرپور ضلعی ہیڈ کوارٹر کچہری سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں سیاسی جماعتوں پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن،جماعت اسلامی، مسلم کانفرنس کے راہنماؤں،ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن، حریت قیادت،انجمن تاجراں ، صحافیوں کی تنظیموں، ملازمین کی جریدہ و غیر جریدہ تنظیموں،اساتذہ،پروفیسرز، طلبائ، سول سوسائٹی کے جملہ افراد نے بھر پور شرکت کی۔شرکاء ریلی ہے حق ہمارا آزادی، ہم چھین کے لیں گے آزادی،تحریک آزادی کشمیر زندہ باد، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مردہ باد،مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و ستم بند کرو،مسلح افواج پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد،آزاد کشمیر زندہ بادکے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔شرکاء نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں اور سیاہ جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں