87

کیاآزاد کشمیر میں کچھ بڑا ہونے والا ہے؟

آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آج ریاست بھر میں مکمل شٹر ڈائون ہڑتال کی جارہی ہے۔ دارالحکومت مظفرآباد سمیت میرپور، کوٹلی، پونچھ، باغ، سدھنوتی، حویلی، بھمبر اور وادی نیلم تک تمام چھوٹے بڑے شہروں میں دکانیں، بازار، تجارتی مراکز، دفاتر، اسکول اور کالجز بند ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر نظر نہیں آئیگی ۔عوامی ایکشن کمیٹی نے کئی روز قبل حکومت کو 38نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا جس میں مہاجرین کی نشستوں پر نظرِ ثانی، حکمرانوں کو دی جانے والی خصوصی مراعات کے خاتمے اور عوامی مسائل کے فوری حل پر زور دیا گیا تھا۔ تاہم حکومت اور کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے متعدد ادوار کے باوجود کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔ اختلافی نکات پر ڈیڈ لاک برقرار رہنے کے بعد کمیٹی نے 29 ستمبر سے ریاست بھر میں شٹر ڈاون ہڑتال اور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ہڑتال سے ایک روز قبل ہی حکومت نے آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل کر دی، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کاروباری حلقے انٹرنیٹ معطلی کو معاشی نقصان سے تعبیر کر رہے ہیں جبکہ طلبہ کا کہنا ہے کہ آن لائن تعلیمی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے انٹرنیٹ معطلی کو غیر ضروری اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام احتجاج کو دبانے کی کوشش ہے۔مظفرآباد اور دیگر شہروں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق صبح سویرے ہی دکانیں اور بازار بند ہو گئے۔ پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث مسافروں کو پیدل سفر کرنے پر مجبور ہونا پڑا جبکہ اسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز میں بھی مریضوں اور عملے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اسکولوں اور کالجز کی بندش سے تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں اور ہزاروں طلبہ گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے۔عام شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان جاری تنازعے کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور کمیٹی فوری طور پر مذاکراتی عمل بحال کریں تاکہ معیشت مزید نقصان سے بچ سکے۔”ہم پہلے ہی مہنگائی اور کاروباری مندی کا شکار ہیں۔ ہڑتال نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو کاروبار مکمل طور پر بیٹھ جائیں گے۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ معطلی کو صرف امن و امان کی خاطر عارضی طور پر نافذ کیا گیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کئی مطالبات پر غور کیا جا رہا ہے اور جلد ہی کوئی لائحہ عمل طے پا سکتا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے چینی حکومتی پالیسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر ہڑتال کا سلسلہ طول پکڑ گیا تو نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں سیاسی عدم استحکام بھی بڑھ سکتا ہے۔عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماوں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی خارج از امکان نہیں۔دوسری جانب سیاسی و سماجی حلقے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر فوری مذاکرات بحال نہ ہوئے تو ریاست بھر میں احتجاجی لہر مزید شدت اختیار کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں