مظفرآباد:وزیر اطلاعات آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر پیر محمد مظہر سعید شاہ نے کہا ہے کہ حکومت صدارتی آرڈیننس کے تحت گرفتار افراد کو مروجہ قوانین کے تحت رہا کرنے کیلئے تیار ہے، اپنے ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آرڈیننس کی معطلی کے بعد کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ حکومت نے سپریم کورٹ اور قانون کے احترام کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی آرڈیننس معطل ہے ۔ آئیں مل کر لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم مسائل کے حل کیلیے اختراعی حل ڈھونڈیں۔وزیر اطلاعات آزادکشمیر پیر محمد مظہر سعید کی وزار حکومت چوہدری محمد رشید اور نثار انصر ابدالی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہسپریم کورٹ کی جانب سے آرڈیننس معطلی کے بعد کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ،اگر انٹری پوائنٹ کی طرف مارچ کرتے ہیں تو فائدہ کس کو ہوگا؟ راستے بند نہ کریں اسکا نقصان عام شہریوں کو ہوگاآرڈیننس کو وجہ بنا کر معاملات کو طول دیا جارہا،انٹری پوائنٹس بند ہونگے تو مریض، طلبہ، مسافروں سمیت ہر طبقہ متاثر ہوگا،حکومت کی جانب سے احتجاجی دوستوں کی سہولت کیلئے ایمبولینسز موجود ہونگیحکومت نے شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماں کا کردار ادا کیا،جس چیز کا وجود نہیں ہے اس پر کیوں تنازعہ کیا جارہا ہے؟، ایکشن کمیٹی کے دوستوں کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں،ریاست کے ہر مکتبہ فکر کے زعما سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنا کردار ادا کریں، اگر انٹری پوائنٹ کی طرف مارچ کرتے ہیں تو فائدہ کس کو ہوگا؟ مہذب قوم کی طرح احتجاج کے جمہوری حق کو ضرور استعمال کریں، پیر محمد مظہر سعید شاہ نے مزید کہا کہ خدارا راستے بند نہ کیجئے، ہم احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہیں،دھرنا دیں لیکن راستوں کو بند نہ کریں اسکا نقصان عام شہریوں کو ہوگا، انٹری پوائنٹس بند ہونگے تو مریض، طلبہ، مسافروں سمیت ہر طبقہ متاثر ہوگا،حکومت کی جانب سے احتجاجی دوستوں کی سہولت کیلئے ایمبولینسز موجود ہونگی،سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد صدارتی آرڈیننس کا کوئی وجود نہیں،صدارتی آرڈیننس کو وجہ بنا کر معاملات کو طول دیا جارہا ہے، وزیر اطلاعات محمد مظہر سعید شاہ نے کہا کہ جس چیز کا وجود نہیں ہے اس پر کیوں تنازعہ کیا جارہا ہے؟، کسی مرحلے پر حکومت نے کوئی بدنیتی نہیں کی، حکومت نے احتجاجی دوستوں کا بھی تحفظ کیا،حکومت نے شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماں کا کردار ادا کیا،ریاست کے وسیع تر مفاد میں مروجہ قوانین کے تحت تمام قیدیوں کو رہا کرنے کیلئے تیار ہیں، احتجاجی دوستوں کی جانب سے کیوں انا کا مظاہرہ کیا جارہا ہے؟ مذاکرات ناکام نہیں ہوئے بلکہ پہلا مذاکراتی سیشن بے نتیجہ رہا،حکومت پر الزام لگایا جارہا ہے کہ صدارتی آرڈیننس جلد بازی میں لایا گیا، صدارتی آرڈیننس کو اس لیے لایا تھا کہ احتجاج کا حق بھی برقرار رہے لیکن دیگر طبقات زندگی متاثر نہ ہوں، صدارتی آرڈیننس کے تحت معطلی کے بعد کوئی گرفتاری نہیں ہو رہی،حکومت نے ہر مرحلے پر فراخدلی کا مظاہرہ کیا، سستا آٹا اور سستی بجلی وزیراعظم چوہدری انوارالحق کا بیانیہ تھا، سستے آٹا اور سستی بجلی پر سبسڈی واپس لینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، جب تک موجودہ حکومت ہے گڈ گورننس اور کفایت شعاری کے ذریعے آٹے و بجلی پر ریلیف کو برقرار رکھا جائیگا، سنجیدگی کے ساتھ آئیں حکومت کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں،باغ کے تاجروں نے سمجھداری سے فیصلہ کیا
138










